مونٹریال: کینیڈا اور یورپی یونین (EU) نے عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے معاشی و سیاسی بحرانوں اور بے یقینی کے مقابلے کے لیے ایک بالکل نئے اور وسیع تر تحفظاتی بلاک "الائنس فار دی فیوچر” (Alliance for the Future) قائم کرنے کا تاریخی اعلان کر دیا ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مونٹریال میں منعقدہ دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی (Mark Carney) اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین (Ursula von der Leyen) نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس الائنس کو ہم خیال ممالک کے لیے ایک "تحفظاتی چھتری” قرار دیا ہے۔
اس نئی شراکت داری کے تحت کینیڈا کو یورپی یونین کی "ایسوسی ایٹ رکنیت” (Associate Membership) دینے کے لیے بھی خاکہ تیار کیا جا رہا ہے، جسے 2027 کے اگلے سربراہی اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی دفاعی و ٹیکنالوجی کمپنیوں پر حد سے زیادہ انحصار پر کینیڈا میں تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے۔
گزشتہ ماہ ایلون مسک کی جانب سے یوکرین میں ‘سٹار لنک’ اور ‘سٹار شیلڈ’ کی رفتار کو ڈرامائی طور پر کم کرنے (Throttling) کے واقعے کے بعد کینیڈا نے اپنے دفاعی و ٹیکنالوجی شعبے میں امریکی نجی کمپنیوں کی اجارہ داری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی AI جائنٹس کو ٹکر دینے کے لیے کینیڈین AI کمپنی ‘Cohere Inc’ اور جرمنی کی ‘Aleph Alpha GmbH’ نے انضمام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نئے ادارے کے ڈوئل ہیڈ کوارٹرز برلن اور ٹورنٹو میں ہوں گے۔ کینیڈین حکومت نے اس میں 1.6 ارب کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تصدیق کی ہے۔یورپی یونین نے کینیڈا کو یورپ کے ‘سپر کمپیوٹنگ نیٹ ورک’ میں شامل کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے تاکہ AI ماڈلز کی تربیت کے لیے یورپی مشینری استعمال کی جا سکے۔
اجلاس کے اہم فیصلوں اور معاشی منصوبوں کے مطابق کینیڈا نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے امدادی قرضے کے پیکج میں شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔سپلائی چینز کو محفوظ بنا کر گاڑیوں، خوارک اور توانائی پر مہنگائی کا اثر کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ ربوں ڈالر کی باہمی تجارت کے لیے سفری و تجارتی پابندیوں میں نرمی اور مشترکہ تعلیمی مواقع پیداکئے جائیں گے۔
دوسری طرف کینیڈا میں کیوبیک صوبے کے اندرونی سیاسی تنازع اور بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد نے شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ کیوبیک کی علیحدگی پسند پارٹی (Parti Québécois) سے تعلق رکھنے والے نئے پریمئیر پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے وفاقی حکومت کی جانب سے عوامی خطاب کی اجازت نہ ملنے پر اس سمٹ کا مکمل بائیکاٹ کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وفاق کی جانب سے انہیں صرف رسمی میزبانی کی پیشکش کی گئی جو کیوبیک کے مفادات کو نظر انداز کرنے اور ان کی خودمختاری کو دبانے کے مترادف ہے۔
عالمی سیاست میں زلزلہ: امریکا پر انحصار ختم ، کینیڈا اور یورپی یونین کا تاریخی اتحاد ‘الائنس فار دی فیوچر’ کا اعلان

