بیجنگ:
ماہرین فلکیات نے کائنات کے ارتقا اور سیاروں کی بقا سے متعلق ایک انتہائی حیران کن اور اہم دریافت سامنے لگی ہے۔ چینی سائنس دانوں نے نظامِ شمسی سے باہر تین ایسے عظیم الشان سیارے دریافت کیے ہیں جو اپنے ستاروں کے ریڈ جائنٹ (Red Giant) مرحلے میں پھیلنے اور تباہی کے باوجود اپنے مدار میں سلامت موجود ہیں۔چین کی یونیورسٹی آف یوننان (Yunnan University) کے پروفیسر چیان شینگ بانگ (Qian Shengbang) کی سربراہی میں کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 24Boötis، HD 12648 اور TYC 4282-605-1 نامی ستاروں اور ان کے گرداگرد موجود سیاروں کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔فلکیاتی قوانین اور مروجہ سائنسی نظریات کے مطابق، جب کسی ستارے کے مرکز میں ہائیڈروجن ختم ہوتی ہے تو وہ پھیل کر ‘ریڈ جائنٹ’ بن جاتا ہے اور اس کا حجم اپنے اصل سائز سے لاکھوں گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران اس کے قریب موجود سیارے یا تو ستارے کی لپیٹ میں آ کر اس کے اندر ضم (Engulf) ہو جاتے ہیں یا شدید کششِ ثقل کے باعث تباہ ہو جاتے ہیں۔تاہم، اس نئی تحقیق میں دریافت ہونے والے تینوں سیارے نظریاتی طور پر اس ‘خطرناک زون’ (Danger Zone) کے اندر واقع ہیں جہاں انہیں بہت پہلے تباہ ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی اپنے ستاروں کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ محققین نے ستاروں کی روشنی میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں اور ان کے ارتعاش (Asteroseismology) کا باریک بینی سے تجزیہ کرکے ان کی کیفیت کی تصدیق کی ہے۔سیاروں کی پوزیشن: ان میں سے ایک سیارہ (24 Boötis b) اپنے ستارے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے، جو اب تک کسی ریڈ جائنٹ ستارے کے گرد پایا جانے والا سب سے قریب ترین سیارہ ہے۔ بیک وقت تین ایسے سیاروں کی دریافت یہ بتاتی ہے کہ یہ کوئی واحد اتفاق نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کوئی مشترکہ طبعی عمل (Physical Mechanism) کارفرما ہے۔
اس دریافت نے ایک بار پھر اس بحث کو گرما دیا ہے کہ آج سے اربوں سال بعد جب ہمارا سورج بھی ریڈ جائنٹ کے مرحلے میں داخل ہوگا تو زمین کا کیا بنے گا۔ اگرچہ یہ نئی تحقیق براہِ راست زمین کے مستقبل کی پیشگوئی کو نہیں بدلتی، لیکن یہ اس بات کو ضرور واضح کرتی ہے کہ مرتے ہوئے ستاروں اور سیاروں کے درمیان ہونے والے تعاملات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور حیرت انگیز ہو سکتے ہیں۔

