واشنگٹن / پورٹ او پرنس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے (Nayib Bukele) کو ہیٹی میں ہزاروں فوجی اتارنے کی باضابطہ اور نجی اجازت دے دی ہے۔
معتبر امریکی میڈیا ادارے "ایگزیوس” (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ہیٹی کے مسلح اور ظالم گینگز نے ایل سلواڈور کے چار فوجی ٹیکنشینز کو اغوا کر لیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نایب بوکیلے کی فون کال پر واضح الفاظ میں کہا:
"آگے بڑھو اور وہ سب کرو جو تمہیں کرنا چاہیے!” (Go ahead and do what you have to do.)
رپورٹس کے مطابق اکتوبر کے وسط میں ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے قریب گھات لگا کر کیے گئے ایک حملے میں ایل سلواڈور کے 4 فوجی (ایوی ایشن ٹیکنیشنز) لاپتہ ہو گئے تھے، جنہیں بعد ازاں سفاک گینگز کی جانب سے یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات آئیں۔
اس واقعے کے بعد صدر نایب بوکیلے نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہیٹی کے گینگز کو ان کے اغوا کاروں کو زندہ واپس کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ جس طرح ایل سلواڈور سے جرائم کا خاتمہ کیا گیا، اسی طرح ہیٹی کے ان درندوں کو بھی نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس گرین سگنل کے بعد ایل سلواڈور نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے خصوصی کمانڈوز، مسلح گاڑیوں اور ہیوی ایکوئپمنٹ پر مشتمل 2,000 تک کے فوجیوں کا پہلا بڑا دستہ ہیٹی روانہ کر دیا ہے، جبکہ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ فورس بڑھ کر 4,000 سے 6,000 فوجیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔
جن میں 2,000 خصوصی کمانڈوز بھی شامل ہیں۔
ہیٹی، جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے بدترین اندرونی انتشار، گینگ وار اور قانون نامی کسی شے کے بغیر زندگی گزار رہا ہے، وہاں اس غیر معمولی فوجی اضافے کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ نے باضابطہ طور پر براہِ راست فوجی سازوسامان (جیسے ڈرونز یا ٹرانسپورٹ طیارے) فراہم کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ٹرمپ کی اس نجی منظوری نے لاطینی امریکہ کے سب سے سخت گیر صدر نایب بوکیلے کو ہیٹی کے خونخوار گینگز کے خلاف فیصلہ کن اور آر پار کی جنگ لڑنے کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا بوکیلے کو گرین سگنل: ہیٹی کے خونخوار گینگز کا صفایا کرنے کے لیے ہزاروں ایل سلواڈور فوجی روانہ! ایگزیوس


