ٹیکنالوجی کی دنیا روز بروز نت نئے حیرت انگیز پیش رفت سامنے لا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس ہمارے روزمرہ کے کاموں کو آسان بنا رہے ہیں، وہیں یہ ٹیکنالوجی روزگار کے بالکل نئے اور انوکھے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ روبوٹ کتوں کو سیر کروا کر بھی اچھی خاصی کمائی کی جا سکتی ہے؟
دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں روبوٹک سگس (Robotic Dogs) کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جدید ترین سینسرز، کیمروں اور خودکار نیویگیشن سسٹمز سے لیس یہ روبوٹ نہ صرف گھروں کی سیکیورٹی بلکہ انسانوں کے بہترین ڈیجیٹل ساتھی کے طور پر بھی ابھر رہے ہیں۔ تاہم، دیگر پالتو جانوروں کی طرح ان روبوٹس کو بھی دیکھ بھال، چارجنگ اور وقتاً فوقتاً کھلے ماحول میں ٹیسٹنگ یا "واک” کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ ان کے سسٹمز اور موومنٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ نوکری کیسے کام کرتی ہے؟
اس پیشے سے وابستہ افراد (جنہیں عموماً "روبوٹ ڈاگ واکرز” کہا جاتا ہے) کا بنیادی کام ان جدید مشینز کو پارکوں یا مخصوص راستوں پر لے کر جانا ہوتا ہے۔ اس دوران درج ذیل امور انجام دیے جاتے ہیں:
-
واک کے دوران روبوٹ کی بیٹری کی کارکردگی اور سینسرز کا مشاہدہ کرنا۔
-
ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فیلڈ میں روبوٹ کی کارکردگی کے حوالے سے فیڈ بیک فراہم کرنا۔
-
لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا اور محفوظ ماحول میں اس کا مظاہرہ کرنا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس قسم کی نان روایتی جابز کے ذریعے اچھے خاصے گھنٹہ وار یا روزانہ کی بنیاد پر معاوضے مل رہے ہیں۔ وہ افراد جو روبوٹکس کی بنیادی سمجھ رکھتے ہیں، وہ اس شعبے سے ہزاروں روپے باآسانی کما سکتے ہیں۔
مستقبل کا یہ انوکھا روزگار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی جگہ لینے کے ساتھ ساتھ ایسے نئے روزگار بھی پیدا کر رہی ہے جن کا چند سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

