لاہور: صوبائی وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے جمعیت علمائے اسلام (JUI-F) کے رہنما کامران مرتضیٰ کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے، اور صوبے میں امن و امان کے قیام، بالخصوص خواتین اور بچوں کی حفاظت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب میں خواتین پر تشدد اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات قطعی طور پر ناقابلِ برداشت ہیں، اور حکومت اس قسم کے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مریم نواز کی کارکردگی سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہے”عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں سیاسی مخالفین اور جے یو آئی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا:”ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی اور ڈیلیور کرنے کی تکلیف صرف پی ٹی آئی کو ہی نہیں، بلکہ اور بھی بہت سے لوگوں کو ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے اقدامات پر پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے لیے پی ٹی آئی ہی کافی ہے، لہٰذا جے یو آئی اب پی ٹی آئی کی بی ٹیم بننے کی کوشش نہ کرے۔”کے پی میں ناجائز قبضوں اور "بغل میں چھری” کی سیاست پر تنقیدخیبر پختونخوا کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ناجائز قبضے واگزار کروانے کا غصہ ریاست پاکستان اور پنجاب حکومت پر نکالا جا رہا ہے، جس کی اصل وجہ حکومت بخوبی جانتی ہے۔عظمیٰ بخاری نے اختتام پر دہرایا کہ پنجاب حکومت کا اصل ہدف عوام کو ریلیف دینا اور معاشرے کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنا ہے، جس سے کوئی سیاسی تنقید حکومت کو پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
جے یو آئی اب پی ٹی آئی کی بی ٹیم بننے کی کوشش نہ کرے” — کامران مرتضیٰ کے بیان پر عظمیٰ بخاری کا ردِعمل؛

