واشنگٹن ڈی سی :امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی ایک حالیہ رپورٹ اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق پینٹاگون نے ریاست ٹیکساس سے اپنی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس بیٹری کو ہٹا کر براہِ راست اسرائیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پینٹاگون کے اپنے جنگی منصوبوں اور حکمتِ عملی کی روشنی میں یہ اقدام انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکی حکام نے خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر لیکن انتہائی شدید عسکری کارروائی کی توقع رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی یہ واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں پورے خطے کو نشانہ بنا کر بھرپور جواب دے گا، اور اس ممکنہ جواب کی سب سے سخت اور سنگین زد میں اسرائیل ہی آئے گا۔
تاہم، اس دفاعی نقل و حرکت نے امریکی فوج کے اندرونی ذخائر پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ جنگی تنازعات کے دوران امریکی فوج پہلے ہی اپنے پیٹریٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 61 فیصد حصہ استعمال کر چکی ہے، جس کے بعد اس کا کل ذخیرہ اب صرف 39 فیصد کے قریب رہ گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان صلاحیتوں کی دوبارہ بحالی یا تلافی 2030ء سے پہلے ممکن نہیں ہو سکے گی۔ اس صورتِ حال میں امریکہ کی اپنی سرزمیں اور ہوم لینڈ ڈیفنس سے ایک پیٹریٹ بیٹری نکال کر اسرائیل منتقل کرنا دیگر اہم محاذوں کو دفاع سے محروم کرنے کے مترادف ہے—اور وہ بھی ایک ایسے اتحادی کی خاطر جس کے پاس ایرو (Arrow) اور ڈیوڈز سلنگ (David’s Sling) جیسے خود کے قائم کردہ مضبوط اور اعلیٰ درجے کے ایئر ڈیفنس سسٹمز پہلے ہی سے موجود ہیں۔
امریکی ریاست ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل ہٹا کر اسرائیل منتقل کرنے کا فیصلہ

