کیپ ٹاؤن: آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے فیصلہ کن اور تیسرے میچ کے پہلے دن کا کھیل انتہائی سنسنی خیز اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ نیولینڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جا رہے اس میچ کے پہلے دن جنوبی افریقا کی ٹیم نے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 329 رنز اسکور کیے۔
میچ کے آغاز میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ ابتدائی سیشن میں جنوبی افریقن اوپنرز کی شاندار بلے بازی کے باعث درست ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ میزبان ٹیم کے بیٹرز نے پچ کی سازگار حالت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
جنوبی افریقا کی جانب سے مارکس ایکرمین نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے کیریئر کی پہلی سنچری سے محض 5 رنز کی دوری پر 95 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ ایڈن مارکرم نے جارحانہ انداز میں 78 رنز، مارکو جینسن نے شاندار نچلے درجے کی بیٹنگ کرتے ہوئے 52 رنز، اور ڈیوڈ بیڈنگھم نے 50 رنز کی نصف سنچری اننگز کھیلی۔ ریان رکیلٹن نے بھی 42 رنز کا اہم تعاون کیا۔ ایک موقع پر جنوبی افریقا کی پوزیشن انتہائی مستحکم دکھائی دے رہی تھی، تاہم ان کی اننگز کا خاتمہ ڈرامائی انداز میں ہوا۔
آسٹریلیا کی جانب سے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں۔ اسٹارک نے دن کے آخری لمحات میں نئی گیند سے زبردست جادو جگایا اور محض 6 گیندوں کے اندر جنوبی افریقا کے آخری چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ وہ ایک ہی اوور میں دو وکٹیں لینے کے بعد اگلے اوور کی پہلی گیند پر بھی وکٹ حاصل کر کے ہیٹ ٹرک کے قریب پہنچ گئے تھے۔
آسٹریلیا کے دیگر بولرز میں نیتھن لائن نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جوش ہیزلووڈ اور نوجوان اسپنر کوپر کونولی (جن کی یہ پہلی ٹیسٹ وکٹ تھی) نے 1، 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
جنوبی افریقا کی ٹیم اپنی اچھی شروعات کے باوجود آخری 9 وکٹیں صرف 126 رنز کے اضافے پر گنوا بیٹھی اور پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک جنوبی افریقا کی اننگز تمام ہو چکی ہے اور اب آسٹریلیا اپنی پہلی اننگز کا آغاز کرے گا۔

