واشنگٹن/کارپس کرسٹی: امریکہ کے سابق صدر اور آئندہ صدارتی دوڑ کے نمایاں امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے متنازعہ اور جارحانہ بیانات سے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ٹیکساس کے شہر کارپس کرسٹی میں ایک پرجوش انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے وینزویلا کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور طنزیہ تجویز پیش کی ہے۔
ریلی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ تیل اور توانائی کے شعبے میں بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کا ذکر کیا، تاہم بات کا رخ موڑتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا ایک انتہائی خوشحال ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"آئیے وینزویلا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنا دیں! وہاں صدر کے بجائے ایک گورنر کا انتخاب ہوگا، کیسا رہے گا؟ کیونکہ ان کے پاس دنیا کا بے پناہ تیل موجود ہے۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ بیان اگرچہ بظاہر ایک سیاسی شو اور طنز کا حصہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس نے لاطینی امریکہ اور عالمی سیاست میں ایک نئی بحث چھوٹی کر دی ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی کینیڈا اور دیگر ممالک کے حوالے سے اس نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں، جو مخالفین کی طرف سے سخت تنقید کا ہدف بنتے رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت یا بین الاقوامی برادری اس تازہ ترین بیان پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے، تاہم اس وقت سوشل میڈیا اور خبروں کی دنیا میں ٹرمپ کا یہ بیان ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔

