اسلام آباد/لاہور: عالمی یومِ فالج کے موقع پر ماہرینِ صحت اور طبی حلقوں کی جانب سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ فالج (Stroke) جیسی جان لیوا بیماری اب صرف بڑی عمر یا بزرگوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ۳۰ سے ۳۵ سال کی عمر کے نوجوان بھی اس کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں دماغی فالج کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجہ ہمارا تبدیل ہوتا ہوا طرزِ زندگی اور روزمرہ کی غلط عادات ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل عوامل سب سے اہم ہیں۔
طرزِ زندگی کی خراب عادات اور سستی: موجودہ دور میں طویل گھنٹوں تک کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل اسکرین کے سامنے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنے (Sedentary Lifestyle) اور جسمانی حرکت یا ورزش کو بالکل ترک کر دینے کی وجہ سے نوجوان موٹاپے اور خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ، چکنائی والی غذاؤں اور کولڈ ڈرنکس کا اندھا دھند استعمال بھی اس مرض کو دعوت دے رہا ہے۔
شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن: آج کی مقابلہ بازی کی دوڑ، کیریئر کا تناؤ، روزگار کے مسائل اور مالی مشکلات نوجوانوں کو مسلسل ذہنی دباؤ (Chronic Stress) میں مبتلا کر رہی ہیں۔ طویل مدتی ذہنی دباؤ جسم میں بلڈ پریشر کو مستقل بلند رکھتا ہے، جو کہ فالج کے حملے کا سب سے بڑا محرک ہے۔
خاموش بیماریوں کا کم عمری میں لاحق ہونا: پہلے ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کو بڑی عمر کی بیماریاں سمجھا جاتا تھا، لیکن ناقص خوراک اور تناؤ کی وجہ سے اب کم عمر نوجوان بھی ان خاموش قاتل بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوانوں کو بروقت معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان امراض میں مبتلا ہیں۔
سگریٹ نوشی اور نیند کی کمی: سگریٹ نوشی، شیشہ اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال خون کی نالیوں کو کمزور اور تنگ کر دیتا ہے، جس سے خون کے لوتھڑے بننے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رات گئے تک جاگنے اور نیند کے نامکمل معمولات نے جسم کے اندرونی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کی جانب سے احتیاطی تدابیر: طبی ماہرین نے نوجوان نسل کو اس خطرناک رجحان سے بچانے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھائیں، روزانہ کم از کم ۳۰ منٹ ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنائیں، سال میں ایک بار اپنا بلڈ پریشر اور شوگر چیک کروائیں، اور ذہنی تناؤ پر قابو پانے کے لیے یوگا یا صحت مند مشاغل کو اپنائیں۔

