لاہور: طبی ماہرین اور سائنسی تحقیقات نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں سستی یا آہستہ چلنے کے مقابلے میں تیز رفتاری سے چلنا (Brisk Walking) انسان کو قبل از وقت موت کے خطرے سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر کوئی شخص اپنی روزمرہ کی روٹین میں محض معمولی سی تبدیلی کرتے ہوئے چلنے کی رفتار تیز کر لے، تو اس کے جسم پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق تیز رفتاری سے مراد وہ رفتار ہے جس میں آپ کے قدم تیزی سے اٹھیں (تقریباً 100 یا اس سے زیادہ قدم فی منٹ)، اور چلتے ہوئے آپ کی سانس قدرے تیز ہو جائے لیکن آپ آسانی سے بات چیت جاری رکھ سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ صرف 15 سے 30 منٹ تک تیز قدموں سے چلنے کی عادت اپنا لے، تو اس سے امراضِ قلب اور مجموعی وجوہات سے ہونے والی قبل از وقت اموات کے خطرے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ روزانہ کی بنیاد پر 7,500 سے 10,000 قدم چلنے کا روایتی ہدف پورا نہیں کر پاتے، اگر وہ کم قدم بھی چلیں لیکن اپنی رفتار تیز رکھیں، تو وہ بھی اتنے ہی طبی فوائد حاصل کر سکتے ہیں جتنے آہستہ چلنے والے زیادہ قدم چل کر حاصل کرتے ہیں۔
تیز واک کرنے کے اہم طبی فوائد درج ذیل ہیں:
-
بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول: تیز چلنے سے بلڈ پریشر اعتدال میں رہتا ہے اور انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔
-
دل کی صحت: یہ عادت دل کے عوارض اور دل کا دورہ پڑنے کے خطرات کو کم کرتی ہے۔
-
جسمانی وزن میں کمی: جسمانی چربی گھلانے اور وزن کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ صحت مند اور لمبی زندگی کے لیے اپنی روزمرہ روٹین میں تیز واک کو لازمی شامل کریں۔

