تل ابیب :اسرائیل میں 26ویں کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہو گئی جس میں تقریباً 73 لاکھ ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔
ان انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نیتن یاہو ساتویں مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کے خواہشمند ہیں۔
ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی۔ ان انتخابات کے لیے ملک بھر میں 12 ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں ووٹر کنیسٹ کے 120 ارکان کا انتخاب کریں گے۔
بہت سے لوگ ان انتخابات کو ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ووٹ ڈالنے کے لیے ریکارڈ 70 ہزار افراد بیرون ملک سے واپس آئے ہیں، جبکہ پانچ لاکھ افراد ایسے ہیں جو پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔
جمعہ کے روز شائع ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کے لیے سخت مقابلے کی توقع ہے۔
تاہم اندازوں کے مطابق ان میں سے کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں ہوں گی، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ کئی ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینوں تک سیاسی جوڑ توڑ جاری رہ سکتی ہے۔
یشار پارٹی کے گادی آئزنکوٹ نام نہاد ’تبدیلی کے اتحاد‘ کی نمایاں شخصیت ہیں۔ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات تو موجود ہیں، لیکن سب کا مشترکہ مقصد بنیامین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔
اس اتحاد کے دیگر رہنماؤں میں سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، ایویگڈور لیبرمین اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق جنرل یائر گولان شامل ہیں۔ بینیٹ اور لیبرمین دائیں بازو کے رہنما ہیں اور سلامتی کے معاملات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
جہاں تک بنیامین نیتن یاہو کا تعلق ہے، ان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کا انحصار انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر ہوگا۔ یہ ان کے موجودہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اور جسے اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت قرار دیا جاتا ہے۔
گذشتہ جمعہ کو جاری ہونے والے مختلف سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف سٹاف گادی آئزنکوٹ کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ انتہائی سخت اور قریب ترین مقابلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اور گادی آئزنکوٹ کے درمیان سخت مقابلہ، ووٹنگ جاری

