جھڈو (رپورٹ / قیصر راجہ راجپوت)
عوامی تحریک کی جانب سے سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مبینہ سازشوں، دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکوں، کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینیں کمپنیوں کے حوالے کرنے، زراعت، ماحولیات اور ساحلی پٹی کو درپیش خطرات، گھوٹکی ڈرینیج منصوبے سمیت تعلقہ جھڈو کے عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم تعلقہ کانفرنس منعقد کی گئی۔کانفرنس کے دوران عوامی تحریک تعلقہ جھڈو کی نئی تنظیمی باڈی کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس میں اتفاق رائے سے ایڈووکیٹ ممتاز کھوسو کو صدر اور گھنور لغاری کو جنرل سیکریٹری منتخب کرلیا گیا۔کانفرنس سے عوامی تحریک کے ضلعی رہنما ایاز کھوسو، نومنتخب صدر ایڈووکیٹ ممتاز کھوسو، گھنور لغاری، ممتاز جونیجو، ایاز کلوئی، وکیل اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ رہنماؤں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کسی کی جاگیر نہیں کہ اقتدار کے بھوکے حکمران اسے فروخت کرتے پھریں۔ سندھ ہمارا وطن ہے اور سات کروڑ سندھی دودو، روپلو اور ہوشو بن کر اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے مفادات کا سودا کرنے والے جاگیردار ماضی میں بھی سندھ کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ جماعتیں ہیں جو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ 19 سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے، جبکہ دونوں جماعتوں نے مل کر ملک میں جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کی 80 سالہ تاریخ میں کوئی بھی انتخاب مکمل طور پر صاف اور شفاف نہیں ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے اسے قراردادِ پاکستان 1940ء کی روح کے منافی قرار دیا اور کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت کے اقدامات سے ملک میں ایوبی اور ضیائی آمریت جیسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ دریائے سندھ پر نئے کینال اور ڈیم بنا کر سندھ کی زراعت کو تباہ کرنے، کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے ہاریوں اور ہاری عورتوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور ساحلی پٹی پر قبضے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ کے حقوق کے تحفظ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے صوبے بھر کے عوام میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

