کراچی (خصوصی رپورٹ): (NCCIA) نے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں بچوں کی اینیمیٹڈ اور نا زیبا پورنوگرافک ویڈیوز کی تیاری اور عالمی سطح پر فراہمی میں ملوث 42 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 13 ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کر کے عدالت سے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے (NCCIA) کے مطابق تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے تین مختلف کمپنیاں کام کر رہی تھیں جن کا روحِ رواں ایک ہی مرکزی ملزم ہے۔ یہ گروہ خواتین کے ناموں سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈیز بنا کر اینیمیٹڈ پورن کلپس اپ لوڈ کرتا تھا اور پھر امریکہ، جرمنی اور دیگر ممالک سے کلائنٹس (خریدار) تلاش کیے جاتے تھے۔
تین مرحلہ وار سنسنی خیز نظام اور بچوں کا استحصال
ڈپٹی ڈائریکٹر NCCIA شہزاد اکبر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق ملزمان کا طریقہ کار انتہائی ہولناک تھا:
بچوں کو ادائیگی اور اواتار (Avatars) کی تیاری: پورنوگرافک کارٹونز اور پروڈکشن کے لیے انڈر ایج (کم سن) بچوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ بچے آرڈر کے مطابق کام کرتے تھے اور انہیں فی شوٹ 6 ہزار روپے ادا کیے جاتے تھے۔ نیچرل پرسنز کے اواتارز بنا کر کسٹمائزڈ کنٹینٹ اور تیار مواد سیل آؤٹ کیا جاتا تھا۔
سپریمپوزڈ کلپس اور انسانی چہرے: تفتیش کے دوران ملزمان سے سپر امپوزڈ (Superimposed) کلپس اور ڈمی تصاویر کے شواہد بھی ملے ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزمان اصلی انسانی چہروں کو جعلی بنا کر خریداروں کو فراہم کرتے تھے۔
شواہد پر مبنی بلیک میلنگ: نیٹ ورک کے ملزمان خریداروں کو مطلوبہ کلپس فراہم کرنے کے بعد خرید و فروخت کے شواہد کی بنیاد پر انہی کلائنٹس کو بھی بلیک میل کر کے مزید رقم بٹورتے تھے۔
بین الاقوامی نیٹ ورک اور بین الصوبائی تفتیش
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ہزاروں ویڈیوز اور ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لیے گئے ہیں۔ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی خریداروں کا کتنا بڑا نیٹ ورک اس گینگ سے جڑا ہوا ہے تاکہ دیگر تمام کرداروں اور اس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ گرفتار ملزمان سے ریمانڈ کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

