سرینگر:صرف 48 گھنٹوں کے اندر ہریانہ اور پنجاب میں کشمیر رجسٹریشن نمبر کی مسافر بردار گاڑیوں پر دو حملوں نے ڈرائیوروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد دہلی سے سرینگر کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ کہیں جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا!پہلا واقعہ 17 اکتوبر کو ہریانہ کے کُروکشیتر میں "ڈیوائن اسٹار” نامی ڈھابے پر پیش آیا، جہاں کشمیری ٹرانسپورٹ کمپنی -اسٹار ورلڈ ہالیڈیز وینچرز – کی 40 نشستوں والی سلیپر بس پر رات کے کھانے کے وقفے کے دوران حملہ کیا گیا۔ دوسرا واقعہ 18 اکتوبر کی رات پنجاب میں لدھیانہ کے قریب پیش آیا، جہاں اسی کمپنی کی ایک اور گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔دونوں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر بالترتیب JK01BE8013 اور JK01BE8014 ہیں۔ کمپنی کے مطابق، دوسرے حملے میں گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔ان حملوں کے بعد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹروں میں تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ ان کی گاڑیاں باقاعدگی سے وادی اور ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان سیاحوں اور دیگر مسافروں کو لاتی لے جاتی ہیں۔حملوں کا سامنا کرنے والے ڈرائیوروں نے خوف، غیر یقینی صورتحال اور مالی نقصان کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا ان واقعات کے پیچھے جموں و کشمیر کے رجسٹریشن نمبر والی گاڑیوں کے خلاف دشمنی کارفرما ہے۔’دہشت گرد، گاڑی یہاں سے نکال‘پہلے حملے میں متاثرہ ڈرائیور وقار احمد نے الزام عائد کیا کہ واقعے کا آغاز پارکنگ کے معاملے پر جھگڑے سے ہوا۔ ان کے مطابق، ایک شخص نے ان سے بحث کرتے ہوئے کہا، ’’آتنک وادی گاڑی نکال یہاں سے‘‘، یعنی ’’(تم کشمیری) دہشت گرد، یہاں گاڑی پارک مت کرو، اسے یہاں سے نکالو۔”ڈرائیور کا کہنا ہے کہ ان افراد نے جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑی وہاں کھڑی کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ پہلے حملے کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیے جانے کے باوجود دوسری گاڑی پر حملہ ہوا۔سٹار ورلڈ ہالیڈیز وینچرز کی شریک مالک ادیبہ خان نے بتایا کہ پہلے واقعے میں مبینہ طور پر پانچ افراد شامل تھے۔ ان کے مطابق، دو افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ باقی تین کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ادیبہ خان نے دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ایک بار پھر ہماری دوسری گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں کمپنی کی دوسری گاڑی کو نشانہ بنانے والے افراد وہی تین لوگ تھے جنہیں پہلے واقعے میں حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ان کے مطابق، حملہ آوروں نے گاڑی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم اس کے شیشے ہی ٹوٹے اور کسی مسافر کو چوٹ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسافر اور ڈرائیور محفوظ ہیں۔ادیبہ خان نے مزید بتایا کہ کمپنی نے پنجاب پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق، پولیس نے گاڑی اور مسافروں کو سرینگر کی طرف بحفاظت روانہ کرنے کے لیے ایک جیپ بطور اسکارٹ فراہم کی۔انہوں نے کہا: ’’ہم نے پنجاب پولیس سے تحفظ کی درخواست کی تھی، تاکہ ہمارے مسافر اور گاڑی بحفاظت سرینگر پہنچ سکیں۔” خان نے یہ بھی کہا کہ آج تک کمپنی کو پنجاب یا ہریانہ پولیس کی جانب سے مقدمات کے بارے میں کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، "ابھی تک ہمیں پنجاب یا ہریانہ پولیس، کسی کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ہم دونوں ریاستوں کی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد ضروری کارروائی کریں۔”’ڈرائیونگ کے 14 سال میں ایسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا‘دوسرے واقعے کے وقت گاڑی JK01BE8014 چلا رہے اشفاق صوفی نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ وہ 13 سے 14 سال سے ڈرائیونگ کر رہے ہیں، لیکن انہیں اپنے پورے کیریئر میں اس طرح کے واقعے کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا۔صوفی کے مطابق: "سفر دہلی سے شروع ہوا اور گاڑی ہریانہ سے گزرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوئی۔ شاہ آباد کے قریب امانت نامی ہوٹل میں کھانے کے لیے رکنے کے بعد گاڑی نے سرینگر کی طرف سفر دوبارہ شروع کیا۔”انہوں نے بتایا کہ راستے میں کئی مقامات سے گزرنے کے باوجود کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، لیکن لدھیانہ کے قریب پہنچتے ہی صورتحال اچانک بدل گئی۔ صوفی نے کہا کہ "گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔” ان کے مطابق، انہوں نے چار پتھروں کو گاڑی سے ٹکراتے دیکھا، جس سے شیشوں کو نقصان پہنچا اور ان پر واضح نشانات پڑ گئے۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران مسافر خوفزدہ ہوگئے تھے۔ گاڑی میں بچے بھی سوار تھے اور ایک مسافر دل کا مریض تھا۔ صوفی کو خدشہ تھا کہ اس واقعے سے اس مریض کو شدید پریشانی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مسافر گھبرا گئے تھے۔ گاڑی میں بچے بھی تھے اور دل کا ایک مریض بھی بیٹھا ہوا تھا۔‘‘صوفی نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ محض نشے میں دھت افراد کی حرکت نہیں، بلکہ جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں لگا تھا کہ پہلے واقعے کے بعد مزید کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نے سوچا تھا کہ وہ لوگ نشے میں تھے اور اس حد تک نہیں جائیں گے۔ لیکن یہ پوری سازش ہے، ایک گروہ ہے۔‘‘تاہم، پولیس نے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہے اور حملوں کے مقصد کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔


