Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایلون مسک پر بننے والی ڈاکیومنٹری ٹک ٹاک نے بَین کیوں کی ? سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

      یوٹیوب سرچ میں اے آئی کا نیا تجربہ، صارفین کے لیے ’آسک یوٹیوب‘ فیچر متعارف

      ميٹا /فیس بک کی اے آئی ٹریننگ کی متنازع شقیں واپس: نیوز ویب سائٹس کے contentسے متعلق تجارتی شرائط میں ترمیم

      مصنوعی ذہانت کی خود مختاری کا خطرہ: کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران اے آئی نے کرپٹو والٹ سے فنڈز منتقل کر لیے

      ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: فولڈ ایبل آئی فون کے لیے خریداروں کی دوڑ، آدھے گھنٹے میں تمام فونز بک

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کشمیر رجسٹریشن نمبر کی گاڑیوں پر ہریانہ، پنجاب میں حملے؛ ڈرائیوروں میں خوف

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    سرینگر:صرف 48 گھنٹوں کے اندر ہریانہ اور پنجاب میں کشمیر رجسٹریشن نمبر کی مسافر بردار گاڑیوں پر دو حملوں نے ڈرائیوروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد دہلی سے سرینگر کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ساتھ ہی یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ کہیں جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر نشانہ تو نہیں بنایا جا رہا!پہلا واقعہ 17 اکتوبر کو ہریانہ کے کُروکشیتر میں "ڈیوائن اسٹار” نامی ڈھابے پر پیش آیا، جہاں کشمیری ٹرانسپورٹ کمپنی -اسٹار ورلڈ ہالیڈیز وینچرز – کی 40 نشستوں والی سلیپر بس پر رات کے کھانے کے وقفے کے دوران حملہ کیا گیا۔ دوسرا واقعہ 18 اکتوبر کی رات پنجاب میں لدھیانہ کے قریب پیش آیا، جہاں اسی کمپنی کی ایک اور گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔دونوں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر بالترتیب JK01BE8013 اور JK01BE8014 ہیں۔ کمپنی کے مطابق، دوسرے حملے میں گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔ان حملوں کے بعد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹروں میں تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ ان کی گاڑیاں باقاعدگی سے وادی اور ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان سیاحوں اور دیگر مسافروں کو لاتی لے جاتی ہیں۔حملوں کا سامنا کرنے والے ڈرائیوروں نے خوف، غیر یقینی صورتحال اور مالی نقصان کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا ان واقعات کے پیچھے جموں و کشمیر کے رجسٹریشن نمبر والی گاڑیوں کے خلاف دشمنی کارفرما ہے۔’دہشت گرد، گاڑی یہاں سے نکال‘پہلے حملے میں متاثرہ ڈرائیور وقار احمد نے الزام عائد کیا کہ واقعے کا آغاز پارکنگ کے معاملے پر جھگڑے سے ہوا۔ ان کے مطابق، ایک شخص نے ان سے بحث کرتے ہوئے کہا، ’’آتنک وادی گاڑی نکال یہاں سے‘‘، یعنی ’’(تم کشمیری) دہشت گرد، یہاں گاڑی پارک مت کرو، اسے یہاں سے نکالو۔”ڈرائیور کا کہنا ہے کہ ان افراد نے جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑی وہاں کھڑی کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ پہلے حملے کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیے جانے کے باوجود دوسری گاڑی پر حملہ ہوا۔سٹار ورلڈ ہالیڈیز وینچرز کی شریک مالک ادیبہ خان نے بتایا کہ پہلے واقعے میں مبینہ طور پر پانچ افراد شامل تھے۔ ان کے مطابق، دو افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ باقی تین کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ادیبہ خان نے دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ایک بار پھر ہماری دوسری گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں کمپنی کی دوسری گاڑی کو نشانہ بنانے والے افراد وہی تین لوگ تھے جنہیں پہلے واقعے میں حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ان کے مطابق، حملہ آوروں نے گاڑی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم اس کے شیشے ہی ٹوٹے اور کسی مسافر کو چوٹ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسافر اور ڈرائیور محفوظ ہیں۔ادیبہ خان نے مزید بتایا کہ کمپنی نے پنجاب پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق، پولیس نے گاڑی اور مسافروں کو سرینگر کی طرف بحفاظت روانہ کرنے کے لیے ایک جیپ بطور اسکارٹ فراہم کی۔انہوں نے کہا: ’’ہم نے پنجاب پولیس سے تحفظ کی درخواست کی تھی، تاکہ ہمارے مسافر اور گاڑی بحفاظت سرینگر پہنچ سکیں۔” خان نے یہ بھی کہا کہ آج تک کمپنی کو پنجاب یا ہریانہ پولیس کی جانب سے مقدمات کے بارے میں کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، "ابھی تک ہمیں پنجاب یا ہریانہ پولیس، کسی کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ہم دونوں ریاستوں کی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد ضروری کارروائی کریں۔”’ڈرائیونگ کے 14 سال میں ایسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا‘دوسرے واقعے کے وقت گاڑی JK01BE8014 چلا رہے اشفاق صوفی نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ وہ 13 سے 14 سال سے ڈرائیونگ کر رہے ہیں، لیکن انہیں اپنے پورے کیریئر میں اس طرح کے واقعے کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا۔صوفی کے مطابق: "سفر دہلی سے شروع ہوا اور گاڑی ہریانہ سے گزرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوئی۔ شاہ آباد کے قریب امانت نامی ہوٹل میں کھانے کے لیے رکنے کے بعد گاڑی نے سرینگر کی طرف سفر دوبارہ شروع کیا۔”انہوں نے بتایا کہ راستے میں کئی مقامات سے گزرنے کے باوجود کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، لیکن لدھیانہ کے قریب پہنچتے ہی صورتحال اچانک بدل گئی۔ صوفی نے کہا کہ "گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔” ان کے مطابق، انہوں نے چار پتھروں کو گاڑی سے ٹکراتے دیکھا، جس سے شیشوں کو نقصان پہنچا اور ان پر واضح نشانات پڑ گئے۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران مسافر خوفزدہ ہوگئے تھے۔ گاڑی میں بچے بھی سوار تھے اور ایک مسافر دل کا مریض تھا۔ صوفی کو خدشہ تھا کہ اس واقعے سے اس مریض کو شدید پریشانی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مسافر گھبرا گئے تھے۔ گاڑی میں بچے بھی تھے اور دل کا ایک مریض بھی بیٹھا ہوا تھا۔‘‘صوفی نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ محض نشے میں دھت افراد کی حرکت نہیں، بلکہ جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں لگا تھا کہ پہلے واقعے کے بعد مزید کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نے سوچا تھا کہ وہ لوگ نشے میں تھے اور اس حد تک نہیں جائیں گے۔ لیکن یہ پوری سازش ہے، ایک گروہ ہے۔‘‘تاہم، پولیس نے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہے اور حملوں کے مقصد کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

    صوفی نے جموں و کشمیر کے ٹرکوں کے ساتھ پیش آئے بعض سابقہ واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ ہریانہ اور پنجاب میں، خصوصاً لدھیانہ کے قریب ٹول پلازوں پر بھی کشمیر نمبر کے ٹرکوں کے شیشے توڑے گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ پہلی بس کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 9 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، مرمت کے باعث گاڑی کافی عرصے تک سڑک سے دور رہ سکتی ہے۔ وہیں تازہ حملے نے کمپنی کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈرائیور اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں خوف کے بغیر ان راستوں پر سفر جاری رکھ سکیں گے یا نہیں۔

    پہلے حملے سے قبل کیا ہوا تھا؟
    گاڑی JK01BE8013 کے ڈرائیور وقار احمد نے 17 اکتوبر کو ہریانہ کے کرنال علاقے میں ڈیوائن اسٹار ڈھابے کے قریب پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بس نیلوکھیڑی کے قریب کھانے کے لیے رکی تھی۔ یہ مقام کرنال سے تقریباً 22 سے 23 کلومیٹر دور ہے اور بس معمول کے مطابق یہاں رکتی تھی۔ وقار احمد کے مطابق، جب وہ وہاں پہنچے تو کئی ٹیکسیاں پہلے سے کھڑی تھیں۔ قریب ہی ہریانہ کے رجسٹریشن نمبر HR05BQ2412 والی ایک بلینو کار بھی موجود تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ بس پارک کرنے کے دو سے تین منٹ بعد ایک شخص نے اپنی گاڑی کا ہارن بجایا اور بس ہٹانے کو کہا۔ وقار احمد کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے تو اس شخص نے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اس کے بعد وہ بس کے پاس آیا، اس کی نمبر پلیٹ پر لات ماری اور گاڑی ہٹانے کا مطالبہ دہرایا۔

    ڈرائیور نے بتایا کہ انہوں نے ڈھابے کے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق، کچھ ہی دیر میں مزید لوگ وہاں جمع ہوگئے اور معاملہ بڑھ گیا۔ وقار احمد نے الزام لگایا کہ انہیں اندر لے جایا گیا، جبکہ دوسرے افراد نے بس پر حملہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کا دعویٰ تھا کہ اس علاقے اور جائیداد پر ان کا حق ہے اور وہ وہاں جموں و کشمیر کے نمبر والی گاڑی کھڑی نہیں ہونے دیں گے۔

    وقار احمد کے مطابق، حملہ آوروں نے بس اور اس کی نمبر پلیٹوں کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے گاڑی کو آگ لگانے اور اس میں سوار افراد کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئیں، جن میں وولوو 9600 ایس ایل ایکس سلیپر بس کے ٹوٹے ہوئے شیشے اور اندر بکھرا ہوا کانچ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بس کی سڑک پر قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

    ڈرائیوروں اور عینی شاہدین کے مطابق، پہلے حملے میں کم از کم ایک مسافر زخمی ہوا تھا۔ ایک بزرگ مسافر کی ناک پر چوٹ آئی، جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے لے جایا گیا۔ وقار احمد نے بتایا کہ اب وہ مسافر صحت یاب ہوچکا ہے۔

    اس واقعے کے بعد دوسرے کشمیری ڈرائیوروں اور مسافروں میں بھی تشویش پیدا ہوئی۔ ان میں سے بعض نے حملے کے بعد بس کے عملے کی مدد بھی کی۔ وقار احمد نے پولیس سے منسوب ان بیانات کو بھی غلط قرار دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ڈرائیور، ایک مسافر اور کنڈکٹر نشے میں تھے۔

    پولیس نے پہلے واقعے کے سلسلے میں کرنال کے رہائشی دو افراد، موہت اور ساون، کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس نے موہت کی مبینہ ملکیت والی بلینو کار بھی ضبط کرلی تھی۔

    کرنال پولیس سے منسوب بیان کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کرائی گئی تھی۔ بتایا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی سمجھوتہ ہوگیا تھا، جس کے بعد بس سرینگر کی طرف روانہ ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق، بعد میں ڈیوائن اسٹار ہوٹل اینڈ ڈھابے کے منیجر کی شکایت پر بٹانہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے فرقہ وارانہ پہلو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی مخصوص ریاست یا علاقے کے لوگوں کے خلاف نفرت یا دشمنی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

    تاہم، پنجاب میں تازہ حملے کے بعد کمپنی اور ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کی تحقیقات کریں۔

    ’یہ صرف ایک گاڑی نہیں، پورے کشمیر پر حملہ ہے‘
    پہلی گاڑی سے وابستہ ایک اور ڈرائیور اشفاق احمد نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ اس واقعے کو محض ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے ساتھ تنازع سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ان حملوں نے ان کشمیری ٹرانسپورٹ کارکنوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جو مسافروں کو وادی لانے اور یہاں سے دوسرے علاقوں تک پہنچانے کے لیے باقاعدگی سے مختلف ریاستوں کا سفر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ حملہ صرف اسٹار ورلڈ پر نہیں، بلکہ پورے کشمیر پر ہے۔‘‘ اشفاق احمد نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ٹرانسپورٹر وادی آنے والے سیاحوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کے سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جب سیاح کشمیر آتے ہیں تو ہم انہیں پلکوں پر بٹھاتے ہیں۔ ہم ان کا اتنا استقبال کرتے ہیں۔ لیکن ان کا استقبال کرنے کے بعد ہماری یہ حالت ہے۔ اب بتائیے، ہم کہاں جائیں؟‘‘انہوں نے سوال کیا کہ جب ہزاروں گاڑیاں اور سیاح کشمیر آتے ہیں تو جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کے ساتھ دشمنی کیوں کی جانی چاہیے۔ اشفاق احمد نے ہریانہ، پنجاب اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کریں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے جرمانہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافر گاڑیوں پر ایسے حملے بین الریاستی سفر کے لیے ضروری تحفظ کے احساس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ڈرائیوروں نے بتایا کہ ان واقعات کے بعد مستقبل کے سفر کے حوالے سے خوف پیدا ہوگیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ سلیپر بسیں اور دیگر مسافر گاڑیاں اکثر رات کے وقت سفر کرتی ہیں۔وقار احمد نے کہا کہ اب وہ متاثرہ علاقوں میں دوبارہ جانے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ایک ہی کمپنی کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’’اب ہمیں وہاں جانے سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ ان گاڑیوں پر حملے کیوں کیے گئے۔انہوں نے ہریانہ اور پنجاب سے گزرنے والی جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ وقار احمد کے مطابق، جموں و کشمیر کے دوسرے ٹرانسپورٹروں اور ڈرائیوروں نے بھی متاثرہ عملے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹروں نے حملوں کی مذمت کی اور متاثرہ افراد کا ساتھ دیا۔کمپنی نے مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پولیس تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ادیبہ خان کے مطابق، پنجاب میں دوسری گاڑی کو پولیس اسکارٹ فراہم کیا گیا۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ حکام کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ متاثرہ علاقوں سے مزید گاڑیوں کے گزرنے سے پہلے ہی انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ان حملوں کی جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے بھی مذمت کی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ہریانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے انہیں سزا دی جائے۔انہوں نے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور ریاستی پولیس پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے کارروائی کریں۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے سوشل میڈیا پر تباہ شدہ بس کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے اسے مبینہ طور پر نفرت پر مبنی جرم قرار دیا اور کہا کہ ایک بزرگ کشمیری مسافر کے زخمی ہونے سے خاندان خوف اور بے بسی کا شکار ہوگئے۔ڈار نے معصوم لوگوں پر اس حملے کو قاتلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بھی سخت کارروائی اور نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے حکام اور مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔سابق وزیر اعلیٰ  

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خبردار کیا کہ امن خراب کرنے اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے شرپسندوں کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے واقعات پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عام شہریوں کے خلاف نفرت پر مبنی تشدد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں سے بھری گاڑی کو نشانہ بنانا اور ایک بزرگ مسافر کو زخمی کرنا ایسا عمل ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سجاد لون نے کہا، ’’یہ نفرت کا واقعہ ہے۔ کشمیر کے لوگوں کے خلاف نفرت میں اندھے ایک شخص نے عام شہریوں کے خلاف تشدد کیا۔‘‘ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

    Related Posts

    بھارت میں طبی دنیا کا انوکھا معجزہ: 16 سالہ لڑکے کی بائیں آنکھ سے دانت نکل آیا

    یمن :شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

    ’’موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ہیں، بس میڈیا پر تشہیر نہیں ہو رہی”: چیئرمین نیب

    مقبول خبریں

    بھارت میں طبی دنیا کا انوکھا معجزہ: 16 سالہ لڑکے کی بائیں آنکھ سے دانت نکل آیا

    کشمیر رجسٹریشن نمبر کی گاڑیوں پر ہریانہ، پنجاب میں حملے؛ ڈرائیوروں میں خوف

    یمن :شبوہ میں فوجی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں کم ازکم 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

    ’’موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ہیں، بس میڈیا پر تشہیر نہیں ہو رہی”: چیئرمین نیب

    18 قیراط سونا ، 4410 ہیرے ،رئیلٹی ٹی وی اسٹار کائلی جینر کے برا کی مالیت کتنی ?

    بلاگ

    ضلع سانگھڑ میں امن و امان کی ابتر صورتحال: مثالی امن سے جرائم کے گڑھ تک کا تلخ سفر

    اٹارنی جنرل آف پاکستان  کی طرف سے ماہر تعلیم شمس الضحیٰ کو بیسٹ پرفارمنس سرٹیفیکیٹ پیش

    اٹارنی جنرل آف پاکستان کا تعلیمی وژن، طلبہ کے لیے امید کی نئی کرن

    "آئی جی خیبر پختونخواذوالفقار حمید کے خط نے پنجاب پولیس کے افسران کی نیندیں اڑا دیں”

    "گریڈ 22 کی ترقیوں پر اہم پیش رفت، ہائی پاور بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ”

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.