قاہرہ / ریاض (ویب ڈیسک): یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد مصر کی نیشنل ڈیفنس کونسل اور پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوجی معاونت اور ممکنہ افواج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی حدود اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی رپورٹس کے مطابق مصری فضائیہ کے کم از کم دو ‘سی-130 ایچ’ (C-130H) ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے سعودی عرب کے شہر طائف میں واقع کنگ فہد ایئر بیس پر لینڈ کر چکے ہیں
مصری پارلیمنٹ اور ڈیفنس کونسل سے منظوری کے بعد مصری فورسز کی باقاعدہ تعیناتی کو قانونی جواز مل گیا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران قاہرہ کی جانب سے سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا دفاعی قدم ہے۔
حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے، ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد ریاض انتظامیہ اپنے اتحادی ممالک سے دفاعی تعاون کو وسعت دے رہی ہے۔
مصر کی جانب سے اس فوجی امداد کا ایک بنیادی مقصد بحرِ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا بھی ہے، جس سے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی بلکہ سویز کنال سے ہونے والی معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ عالمی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حوثی گروپ کی جدید ترین ڈرون اور میزائل صلاحیتوں میں اضافہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے سیکیورٹی چیلنجز پیدا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مصر سمیت دیگر اتحادیوں کو دفاعی کارروائیوں میں پیش رفت کرنا پڑ رہی ہے۔
مصر ی پارلیمنٹ کی سعودی عرب فوج بھیجنے کی منظوری،دو سی 130 طیارے طائف پہنچ گئے، نیویارک ٹائمز

