مٹھی (رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
جماعت اسلامی کی جانب سے مٹھی میں ایم ڈی کیٹ (MDCAT) ٹیسٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری اور ٹاؤن کمیٹی نیو ٹاؤن کراچی کے چیئرمین محمد یوسف نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے 7 طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد یوسف نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے اپنے اعلان پر عمل کرتے ہوئے نوجوانوں کو یہ تحفہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ تھر کے عوام کی خدمت کی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس کے لیے ملک اور بیرون ملک سے مخیر حضرات کا تعاون بھی حاصل ہے۔محمد یوسف کا کہنا تھا کہ تھر میں لسانی بنیادوں پر کوئی تقسیم نہیں ہے، یہاں ہندو اور مسلمان متحد ہو کر رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ تھر کے عوام کی خدمت کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے مجموعی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جبکہ ایک مخصوص طبقہ اقتدار اور وسائل پر قابض ہے۔ سرمایہ دار طبقے کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی کے باعث عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، اور اس وقت آٹے کی قیمت 180 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں بلدیاتی نمائندوں کو فوری طور پر ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ عوامی مسائل حل ہو سکیں اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مسائل بھی ختم ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں اسکولوں کے لیے تعمیر ہونے والی بعض عمارتیں بااثر افراد کی اوطاقوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے تعلیم کا فروغ ناگزیر ہے۔سندھ میں منشیات کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات کے ذریعے نوجوان نسل کو تباہ کیا جا رہا ہے جس کی روک تھام حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ٹاؤن میں 32 کمروں پر مشتمل دو اسکول تعمیر کروائے ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے ماہانہ 10 ہزار روپے کے تعلیمی کارڈ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی کہ وہ سندھ میں کسی ایسے ٹاؤن کی مثال پیش کریں جہاں اس نوعیت کے ترقیاتی اور تعلیمی کام کیے گئے ہوں۔تقریب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں پروفیسر سہیل احمد شارق، یاسین لطیف، تاجر ایسوسی ایشن کے رہنما شام سندر، اسلم قائم خانی، ماما وشن تھری، اعجاز بجیر، ساجن چارو، میر محمد بلیڈی، عبدالسبحان سمیجو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے تھر کے طلبہ کی محنت، قابلیت اور تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب تھر کے نوجوان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں تو اس سے پورے سندھ اور پاکستان کا نام روشن ہوتا ہے۔


