عمرکوٹ (رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
پتھورو کے نواحی گاؤں الہڈنو مری کے رہائشی ابوبکر مری اور ان کے بیٹے سجاد علی مری نے اپنے سسرالیوں کے مظالم کے خلاف پتھورو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔متاثرین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے سسرال والے جن میں میر محمد مری، نیاز محمد مری، جان محمد مری، جمون مری، محمد حسن مری، نور محمد مری اور اسحاق مری شامل ہیں، زبردستی ان کی ذاتی زرعی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔متاثرہ باپ بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ علاقے میں گزشتہ چالیس سال سے رہائش پذیر ہیں، ان کے گھر بھی وہیں بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنا حلال کاروبار کر کے اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دیہہ چھاچھرو میں آٹھ ایکڑ 26 گنٹہ پر مشتمل زرعی زمین ان کے مرحوم والد جامون خان کے نام پر ہے، جس کے اصل کاغذات بھی ان کے پاس موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سسرال والے انہیں مسلسل ہراساں اور پریشان کر رہے ہیں۔متاثرین کے مطابق اس معاملے پر سول کورٹ عمرکوٹ میں مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں عدالت سے انصاف کی مکمل امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ، اسسٹنٹ کمشنر پتھورو اور ایس ایچ او پتھورو نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے اور ان کے حق میں رپورٹ بھی دی ہے، جبکہ انتظامیہ بھی ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور کسی بھی ناگہانی جان و مال کے نقصان کے ذمہ دار وہی ہوں گے۔ انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ، ایس ایس پی عمرکوٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، معاملے کی شفاف تحقیقات کروانا اور تحفظ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی چیتھونی دی ہے۔


