منگوال (منور حسین سے)
منگوال لطیفال روڈ پر سکولوں کے بچوں کو خطرناک طریقے سے لے جانے والے ٹرانسپورٹ مالکان کے خلاف خبروں کی اشاعت کے بعد انتظامیہ نے کارروائیاں شروع کیں تو مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ جب بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جا رہی تھیں تو اس وقت کسی کو خیال کیوں نہیں آیا؟ کیا انتظامیہ کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے معصوم بچوں کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی اور قانون پر عمل درآمد شروع کر دیا؟منگوال لطیفال روڈ پر سکول جانے والے بچوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی باشعور انسان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ بچوں کو گاڑیوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ بٹھایا جاتا ہے، کئی بچوں کو گاڑیوں کے پیچھے لٹکایا جاتا ہے، بعض کو گاڑیوں کی چھتوں پر بٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ یہ سکول ٹرانسپورٹ ہے یا معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے کا خطرناک کھیل؟ خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ گیا تو ان بچوں کی زندگیوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا اس وقت یہ ہڑتال کرنے والے مالکان بچوں کو واپس لا سکیں گے؟سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس روٹ پر چلنے والی زیادہ تر گاڑیاں لوڈر ہیں، جنہیں مسافروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ان گاڑیوں کے پاس روٹ پرمٹ اور قانونی فٹنس و پاسنگ کے تقاضے بھی پورے نہیں۔ اس کے باوجود ان گاڑیوں میں بچوں کو ٹھونس ٹھونس کر بٹھایا جاتا ہے اور والدین سے بھاری کرائے وصول کیے جاتے ہیں۔ پیسے پورے وصول کرنے کے باوجود بچوں کو محفوظ سفر فراہم نہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ والدین اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول بھیجتے ہیں، کسی ٹرانسپورٹ مالک کے رحم و کرم پر ان کی جانیں چھوڑنے کے لیے نہیں۔انتظامیہ نے جب ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تو قانون کی پابندی کرنے کے بجائے ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ کیسا طریقہ ہے کہ جب تک کوئی پوچھنے والا نہ ہو، بچوں کو خطرناک انداز میں گاڑیوں پر لٹکا کر لے جاؤ، اور جب کوئی آواز اٹھائے اور انتظامیہ حرکت میں آئے تو ہڑتال کی دھمکیاں دینا شروع کر دو؟ اگر گاڑیاں قانون کے مطابق چل رہی ہیں تو مالکان کو کسی کارروائی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو پھر کارروائی پر اعتراض کیسا؟انتظامیہ کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ بچوں کی زندگیوں کے معاملے میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہڑتال کی دھمکیوں سے نہ قانون بدلا جا سکتا ہے اور نہ بچوں کی حفاظت پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ فوری طور پر تمام گاڑیوں کی جانچ پڑتال کریں، غیر قانونی لوڈر گاڑیوں میں بچوں کی نقل و حمل بند کروائیں، اوورلوڈنگ کا خاتمہ کریں اور روٹ پرمٹ، فٹنس اور دیگر قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔منگوال لطیفال روڈ کے والدین بھی اس معاملے پر خاموش نہ رہیں۔ اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی ٹرانسپورٹ کے خلاف آواز اٹھائیں اور انتظامیہ سے محفوظ سفری سہولت کا مطالبہ کریں۔ بچوں کی جانیں کسی کی جاگیر نہیں اور نہ ہی انہیں منافع کی خاطر خطرے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا، ہڑتال کی دھمکیوں سے نہیں۔ انتظامیہ کارروائی جاری رکھے، کیونکہ بچوں کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

