جنیوا (ویب ڈیسک): عالمی ادارہ صحت (WHO) نے دنیا بھر کے بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے موٹاپے کو صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام اور علاج کے لیے پہلی بار عالمی گائیڈ لائن جاری کر دی ہے۔عالمی ادارے کے مطابق 1990 سے لے کر اب تک 5 سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح چار گنا بڑھ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 17 کروڑ بچے اور نوجوان شدید موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ 40 کروڑ کے قریب بچوں کا وزن حد سے زیادہ ہے۔ابتدائی طبی دیکھ بھال (Primary Healthcare): مریضوں کو علاج اور کونسلنگ فراہم کرنے کے لیے بچوں کے موٹاپے کی تشخیص ابتدائی طبی مراکزی سطح پر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پروسیسڈ فوڈز، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات پر کنٹرول اور متوازن غذائی عادتوں کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بچوں کے سکرین ٹائم (موبائل اور ٹی وی) میں کمی اور روزانہ کی بنیاد پر کھیلوں اور ورزشی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بچوں کو وزن کی وجہ سے طعنے دینے، تنقید یا ذہنی دباؤ سے بچانے اور ان کے علاج میں بنیادی توجہ ان کی مجموعی صحت پر مرکوز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن کا موٹاپا آگے چل کر کم عمری میں ذیابیطس (ٹائپ 2)، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا اہم سبب بن رہا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے حکومتی اور عوامی سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا انتباہ: بچوں میں موٹاپا عالمی صحت کے لیے چیلنج، روک تھام کے لیے اہم ہدایات جاری

