بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ‘انڈیا’ (INDIA Bloc) کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر درجنوں اراکینِ پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن ہیڈ کوارٹر (نیرواچن سدن) کی طرف مارچ کیا۔ دہلی پولیس نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر آکاشوانی بھون اور نیتی آیوگ کے قریب شدید بیریکیڈنگ کر کے اراکینِ پارلیمنٹ کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مارچ روکے جانے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے سڑک اور آکاشوانی بھون کے احاطے میں ہی دھرنا دے دیا۔ پولیس کی جانب سے جگہ خالی کرنے کے مطالبے پر راہل گاندھی نے کہا: "یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، مگر بتا دیں کہاں بیٹھوں؟” انہوں نے الزام عائد کیا کہ 300 سے زائد عوامی نمائندوں کو الیکشن کمشنرز سے ملنے اور اپنا موقف پیش کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر ووٹنگ لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور حکمران جماعت کے تحفظ کے لیے غیر جانبدار نہ رہنے کا الزام لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج کے دوران راہل گاندھی بیریکیڈز پر چڑھے جبکہ پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنماؤں کو کچھ دیر کے لیے پولیس نے حراست میں بھی لیا، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ دھرنے میں شمولیت اختیار کی۔
راہل گاندھی کا دھرنا 5 گھنٹے سے جاری، کہا- ’یہاں سے ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، مگر بتا دیں کہاں بیٹھوں‘

