اسلام آباد :انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران کیس کا ریکارڈ اور تفتیشی افسر پیش نہ ہونے پر ڈی ایس پی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یونیفارم سمیت جیل بھیجنے کی وارننگ دے دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ کیس کا ریکارڈ اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہونے پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں ہے اور اس سلسلے میں واٹس ایپ پر بھیجی گئی دستاویز کا پرنٹ پیش کیا۔ عدالت نے واٹس ایپ کی کاپی لینے سے انکار کرتے ہوئے اسے ڈی ایس پی کی جانب واپس پھینک دیا اور اصل دستاویز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
جج نے استفسار کیا کہ کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ڈی ایس پی کے انگریزی میں جواب دینے پر بھی جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ اردو میں بات کریں۔
ڈی ایس پی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ ایسے ہی آگئے ہیں، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں، ریکارڈ پر کوئی چیز ہے؟
ڈی ایس پی نے عدالت سے کچھ وقت دینے کی استدعا کی، جس پر جج نے کہا کہ آپ کو اور ایس پی کو بھی چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا۔ عدالت نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو شرم آنی چاہیے، یہ کیا بدمعاشی بنا رکھی ہے۔
ججابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ میں آپ کی بات نہیں مانتا، یونیفارم سمیت جیل بھیج دوں گا۔ عدالت نے ڈی ایس پی کو کچھ وقت دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا اور انہیں وہیں کھڑے رہنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے سیکیورٹی انچارج کو بھی طلب کرلیا اور ہدایت کی کہ جب تک عدالت کا حکم نہ ہو، ڈی ایس پی کو جانے نہ دیا جائے۔ جج نے کہا کہ جب میں آرڈر کروں گا تو اسے گرفتار کرلینا ہے۔
عدالت نے ڈی ایس پی کو درست معلومات اور کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر گرفتار کرانے کا عندیہ بھی دیا۔
جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ گیٹ والے کو بتا دیں کہ ڈی ایس پی باہر نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جوڈیشل فورس ہونی چاہیے تاکہ عدالت اپنے احکامات پر فوری عمل درآمد کرا سکے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ آج بھی 1860 اور 1898 کا ہی نظام چل رہا ہے۔
ایمان مزاری،ہادی چٹھہ ضمانت کیس، ریکارڈ نہ آنے پر جج برہم، ہتھکڑی لگوادوں گا، سماعت تیرہ اکتوبر تک ملتوی

