صنعا:یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد محمد العلیمی نے اعلان کیا ہے کہ ’فجر الیمن‘ کے نام سے ایک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، دار الحکومت صنعا کی آزادی اور حوثیوں کی بغاوت کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔
العلیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یمنی عوام کے عزم، مسلح افواج کی بہادری اور برادر و دوست ممالک کی حمایت کے ساتھ، یمن آزادی، امن اور استحکام کی ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا۔‘
اعلنت القوات المسلحة، اليوم الاثنين، بدء تنفيذ عملية هجوم استراتيجي على العاصمة صنعاء.
وقال الناطق الرسمي باسم القوات المسلحة، العقيد الركن ماجد النزيل :" قواتنا المسلحة بدأت تنفيذ عملية هجوم استراتيجي على صنعاء".
واضاف العقيد النزيلي في بيان:" نستخدم قدرات حديثة في عملية الهجوم الاستراتيجي".
— وزارة الداخلية-الجمهورية اليمنية (@moiyemen) October 5, 2026
اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن میں پیر کی صبح 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اتحادی افواج نے 324 ایسے اہداف کو تباہ کیا جنھیں ’اعلیٰ اہمیت کے حامل‘ قرار دیا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اتحادی افواج باب المندب کی آبی گزر گاہ کو فضائی تحفظ فراہم کر رہی ہیں، جبکہ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
ان کا یہ بیان یمن کی وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
بیان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن ’فجر الیمن‘ جاری ہے، اور ذو باب کا ہوائی اڈہ بھی حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ سڑک کاٹ دی ہے اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
بیان میں ذو باب کے علاقے میں موجود حوثی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔‘
یمن کی حکومتی فورسز نے کہا ہے کہ وہ صنعا پر جاری حملے میں جدید عسکری صلاحیتوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
جبکہ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں شہر صعدہ کے جنوبی علاقے، سحار اور الصفرا کی تحصیلیں شامل ہیں۔ چینل کے مطابق کتاف اور البقع کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
المسیرہ نے مزید دعویٰ کیا کہ دار الحکومت صنعا پر بھی سعودی فضائی حملے کیے گئے، تاہم اس نے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

