اسٹاک ہوم:انسانی دماغ کے اندرونی اور پیچیدہ نظام کو سمجھنے اور اسے ضابطے میں لانے کے لیے ایک شاندار تکنیک ایجاد کرنے والے تین نامور سائنسدانوں کو طب (فزیالوجی یا میڈیسن) کے 2026 کے وقار بخش نوبل انعام کا حق دار قرار دے دیا گیا ہے۔ نوبل پرائز کمیٹی نے پیر کے روز سویڈن میں اس کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے مطابق یہ اعزاز کارل ڈائیسروتھ (Karl Deisseroth)، پیٹر ہیجیمین (Peter Hegemann) اور جارج ناگل (Georg Nagel) کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔
نوبل کمیٹی کی رکن اینا ویڈیل (Anna Wedell) نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سائنسدانوں کی تیار کردہ اس انقلابی تکنیک کو ‘آپٹو جینیٹکس’ (Optogenetics) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تکنیک دماغ کے اندر ایک "روشنی سے چلنے والے سوئچ” (light-sensitive switch) کے طور پر کام کرتی ہے، جس کی مدد سے سائنسدانوں کے لیے یہ جاننا ممکن ہو گیا ہے کہ دماغ کا کون سا خلیہ یا حصہ کس مخصوص فعل کا ذمہ دار ہے۔
نوبل کمیٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس تاریخی کامیابی کے پیچھے جرمن سائنسدانوں پیٹر ہیجیمین اور جارج ناگل کی وہ تحقیق ہے جس میں انہوں نے الجی (algae) کے اندر ایک خاص پروٹین دریافت کیا تھا جسے ‘چینلروڈوپسین’ (channelrhodopsin) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکی سائنسدان کارل ڈائیسروتھ نے اس پروٹین کو عصبی خلیات (nerve cells) کے لیے روشنی کے ذریعے کنٹرول کیے جانے والے ایک سوئچ میں تبدیل کر دیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان سائنسدانوں کے اس شاندار کام نے "نیورو سائنس میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔”
اس جدید ترین طریقہ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے اب محققین ان اعصابی سرکٹس (neural circuits) کو روشن اور مانیٹر کر سکتے ہیں جو یادداشت، جذبات اور ان مخصوص رویوں کو کنٹرول کرتے ہیں جو مختلف قسم کی اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
کلاریویٹ کے انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفیک انفارمیشن کے ریسرچ ہیڈ ڈیوڈ پینڈلبری نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نوبل انعام اس شعبے کے گہرے اور دور رس اثرات کا اعتراف ہے، جس نے سائنسدانوں کے دماغ اور اعصابی نظام کو سمجھنے کے پورے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
دماغ کے راز جاننے والی انقلابی ٹیکنالوجی ‘آپٹو جینیٹکس’: کارل ڈائیسروتھ، پیٹر ہیجیمین اور جارج ناگل کو 2026 کا نوبل انعام دینے کا اعلان


