ادارہ شماریات نے مہنگائی کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.53 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.21 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 51 اشیائے ضروریہ میں سے 20 کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، اس دوران 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چکن کی قیمت میں 7.25 فیصد اضافہ ہوا، لہسن 1.85 فیصد، دال چنا 1.30 فیصد اورایل پی جی 1.17 فیصد مہنگی ہوئی۔اسی طرح انڈوں کی قیمت میں 0.72 فیصد، چاول کی قیمت میں 0.55 فیصد جبکہ پیاز، واشنگ صابن اورگندم کے آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ڈیزل کی فی لیٹرقیمت میں 3.43 فیصد کمی ہوئی، جبکہ کیلے 1.52 فیصد اور چینی 1.05 فیصد سستی ہوئی۔گزشتہ ہفتے آلوکی قیمت میں 0.96 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 0.65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر پیازکی قیمت میں سب سے زیادہ 114.20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ایل پی جی کی قیمت سالانہ بنیادوں پر 66.59 فیصد، بجلی کے نرخ 58.59 فیصد جبکہ ڈیزل 44.50 فیصد اور پٹرول 44.05 فیصد مہنگا ہوا۔اسی طرح گندم کے آٹے کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر32.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پرنمایاں کمی بھی ہوئی، رپورٹ کے مطابق ٹماٹر 45.52 فیصد اورآلو 39.54 فیصد سستے ہوئے۔چینی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر21.95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ انڈوں کی قیمت 17.47 فیصد کم ہوئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پرمہنگائی میں اضافے کے باوجود بعض غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی شرح پراثرڈالا، تاہم توانائی اوربعض بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بدستور ریکارڈ کیا گیا۔

