لاہور: شہرِ زندہ دلان میں کم ہواؤں کے دباؤ اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث فضا میں سانس لینا محال، ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) بڑھ کر 236 تک جا پہنچا ۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، جمعرات اور جمعہ کے درمیانی روز لاہور میں ہوا کی رفتار جنوب مشرق سے متحرک رہی۔ صبح کے اوقات میں ہوا کی رفتار 5 سے 6 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ دوپہر کے وقت 8 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، جس سے آلودگی کے بادل چھٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت ہدایات پر شہر کے سب سے زیادہ آلودہ (High AQI) علاقوں میں ایمرجنسی سسٹم الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں مسلسل سموگ گنز کا آپریشن اور واٹر باؤزرز کے ذریعے سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ جاری ہے۔ جن اہم مقامات پر خصوصی اسپرے جاری ہے ان میں ہنڈو ایریا رنگ روڈ سروس لائن، جی ٹی روڈ یو ای ٹی شالامار ٹاؤن، برکی، ڈی ایچ اے اور ملتان روڈ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ کو 24 گھنٹے متحرک کر دیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر نگرانی سموگ کنٹرول ایکشن پلان پر سخت عملدرآمد جاری ہے:
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں 319 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کی گئی، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 15 یونٹس سیل، ایک ایف آئی آر درج اور 16.5 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
421 بھٹوں کی انسپیکشن کے بعد 5 غیر قانونی بھٹے مسمار، 8 سیل اور 5 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 15 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1,248 کلو گرام پلاسٹک ضبط کیا گیا، 6 مقامات سیل کیے گئے اور ایک لاکھ 17 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 249 باربی کیو پوائنٹس کی چیکنگ کر کے 88 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کرائے گئے اور 28 یونٹس سیل کیے گئے۔
فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے ڈران ہارویسٹنگ اور میکینیکل اقدامات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پنجاب کے 6.33 ملین ایکڑ میں سے 724,900 ایکڑ پر کٹائی مکمل ہو چکی ہے (ہارویسٹنگ کی شرح 11.5 فیصد ہے)۔ کسانوں کو آگ لگانے سے باز رکھنے کے لیے 437,445 نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 1,259 کبوٹا مشینوں اور 187 بیلرز کے ذریعے لاکھوں ایکڑ رقبے پر فصلیں ہینڈل کی جا چکی ہیں۔ پورے صوبے میں کسانوں کو ماحول دوست کاشتکاری کے لیے مجموعی طور پر 10,000 سپر سیڈرز فراہم کیے گئے ہیں۔
حکومت نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ کوئی بھی کسان فصل کی باقیات کو آگ نہ لگائے اور شہری سموگ پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کریں، ورنہ قانون فوری حرکت میں آئے گا کیونکہ ماحول کو آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
لاہور میں سموگ الرٹ: اے کیو آئی 236 تک پہنچ گیا، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ہنگامی کریک ڈاؤن

