واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اب ہتھیار ڈالنے کے لیے بالکل تیار ہے اور واشنگٹن اس تنازع کو جلد از جلد انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
ریاست ٹیکساس میں ایک پرجوش عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ان کے اندازے کے مطابق امریکا اس جنگ میں "انتخابات کے فوراً بعد” یا پھر اس سے بھی پہلے بڑی فتح حاصل کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر یہ یقینی بنائیں گے کہ ایران کا یہ باب بہت جلد بند کر دیا جائے، جس کے نتیجے میں توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اور نمایاں کمی واقع ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن موجودہ ایرانی رہنما کے ساتھ نسبتاً "نرمی” کا رویہ اپنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اصل مشکل یہ ہے کہ اس وقت واضح نہیں کہ امریکا کو اصل میں کس کے ساتھ میز پر بیٹھ کر مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی شخص اس ملک کا صدر بننے کی خواہش نہیں رکھتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں پٹرول، ڈیزل اور خوراک سمیت عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جاری جنگ کے اثرات نے حکمران جماعت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
امریکا میں کانگریس کے اہم وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات آئندہ تین نومبر کو یعنی اب سے محض ایک ماہ بعد منعقد ہونے والے ہیں۔ حالیہ آؤٹ لک اور پولز کے مطابق ووٹرز کے رجحانات ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں، اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سیاسی دباؤ کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ پر جنگ کے خاتمے اور معیشت کی بہتری کے لیے فوری نتائج دینے کا شدید دباؤ ہے۔
ایران گھٹنے ٹیکنے کو تیار ، جنگ انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

