آج کل ناقص طرز زندگی اورغذائی عادات کی وجہ سے لوگوں میں گردے کی پتھری کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
گردے میں آکسیلیٹ اور انفیکشن سے بننے والی پتھری کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں اقسام کی پتھری کو انتہائی سخت اور پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، جن کا بروقت اور درست علاج نہایت ضروری ہے۔ گردے میں کیلشیم آکسیلیٹ اور انفیکشن سے بننے والی پتھری کا علاج اس کے حجم، نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ جدید طبی تکنیکوں کی مدد سے ان کا علاج ممکن ہے، تاہم انفیکشن سے بننے والی پتھری کے دوبارہ ہونے کے امکانات کے باعث اس کا علاج نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
ممبئی کے سیفی اسپتال کی کنسلٹنٹ یورولوجسٹ ڈاکٹر سونی مہتا کے مطابق، آکسیلیٹ کی پتھری انتہائی سخت ہوتی ہے۔ یہ اس وقت بنتی ہے جب جسم میں کیلشیم، آکسیلیٹ، سسٹین یا فاسفیٹ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ کیلشیم آکسیلیٹ مونوہائیڈریٹ کی پتھری انسانی جسم میں بننے والی سخت ترین پتھریوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ گردے کے اندرونی حصے، یعنی کیلیسیئل سسٹم، کی ساخت کے مطابق پھیل سکتی ہے اور بعض اوقات اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ اس کی شکل ہرن کے سینگ جیسی دکھائی دینے لگتی ہے۔
اس قسم کی پتھری انتہائی سخت ہونے کی وجہ سے بعض اوقات عام لیتھوٹرپسی، یعنی شاک ویو تھراپی، یا معیاری لیزر ٹریٹمنٹ کے ذریعے بھی آسانی سے توڑی نہیں جاسکتی۔
دوسری جانب، انفیکشن سے بننے والی پتھری بنیادی طور پر پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے نتیجے میں بنتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریضوں یا طویل عرصے سے انفیکشن کا شکار افراد میں زیادہ عام ہوسکتی ہے۔ ایسی پتھری کی وجہ سے گردے میں پیپ جمع ہوسکتی ہے اور بعض صورتوں میں سیپسس جیسی جان لیوا پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں میں ان پیچیدگیوں کے پیش نظر ایسی پتھری کے علاج کے لیے خاص مہارت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سونی مہتا کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یورولوجسٹ گردے کی پیچیدہ پتھری کے زیادہ کیسز دیکھ رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں درج ذیل عوامل اہم ہیں:
پانی کی کمی: بھارت میں پانی کی کمی گردے میں پتھری بننے کی ایک اہم وجہ ہے۔ گرم موسم اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں جسم کو مناسب مقدار میں پانی اور دیگر سیال کی ضرورت ہوتی ہے۔
غذا: آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں، جیسے بعض ہری پتوں والی سبزیاں، خشک میوے اور چاکلیٹ، جبکہ زیادہ نمک، چینی اور حیوانی پروٹین کا استعمال بھی پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ عام ہندوستانی غذا میں نمک کا زیادہ استعمال اور پانی کی کم مقدار خاص تشویش کا باعث ہے۔
جینیاتی عوامل: خاندان میں گردے کی پتھری کی تاریخ موجود ہونے سے بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
طبی بیماریاں: ذیابیطس، موٹاپا، گاؤٹ، ہائپرپیرا تھائیرائڈزم، دائمی اسہال، آنتوں کی سوزش کی بیماری، جیسے کروہن ڈیزیز، اور پیشاب کی نالی کا انفیکشن بھی گردے میں پتھری کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
طرزِ زندگی: کم جسمانی سرگرمی، بہت زیادہ شراب نوشی اور بعض ادویات، مثلاً ڈائیوریٹکس، بھی پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
گردے کی پتھری کا علاج مشکل کیوں ہوتا جارہا ہے؟
ماہرین کے مطابق کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی، پانی کی کمی اور انتہائی سخت کیلشیم کی پتھری بننے کے باعث گردے کی پتھری کا علاج بعض مریضوں میں مشکل ہوتا جارہا ہے۔ جدید غیر جراحی طریقۂ علاج، جیسے ای ایس ڈبلیو ایل (ESWL) یا شاک ویو لیتھوٹرپسی، انتہائی سخت کیلشیم کی پتھری اور ایک سینٹی میٹر سے بڑی پتھری کے خلاف بعض اوقات مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔
پانی کی کمی سے گردے میں پتھری کا خطرہ کیسے بڑھتا ہے؟
آج کل گردے میں پتھری بننے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ’سولیوت-سالوینٹ تھیوری‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگر پیشاب میں کرسٹل بنانے والے مادوں، جیسے آکسیلیٹ یا یورک ایسڈ، کی مقدار زیادہ اور پانی کی مقدار کم ہو تو پیشاب گاڑھا ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں ان مادوں کی حل پذیری کم ہوجاتی ہے اور وہ جمع ہوکر تیزی سے پتھری کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
کیا زیادہ پراسیسڈ فوڈ، نمک اور پروٹین سے پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے؟
پراسیسڈ فوڈ میں بعض ایسے اجزا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں جو پتھری بننے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ نمک اور حیوانی پروٹین کا استعمال بھی بعض اقسام کی پتھری کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پروٹین سپلیمنٹس کا استعمال بھی فرد کی جسمانی ضرورت اور طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر غذائیت کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔
کیا پھل، سبزیاں اور مناسب پانی پتھری سے بچاؤ میں مددگار ہیں؟
ڈاکٹر سونی مہتا کے مطابق زیادہ مقدار میں پھل اور سبزیاں استعمال کرنے اور جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے سے گردے کی پتھری سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ پیشاب میں موجود بعض قدرتی اجزا، خصوصاً سائٹریٹ، پتھری بننے کے عمل کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ پیشاب میں سائٹریٹ کی مقدار جتنی زیادہ ہو، بعض اقسام کی پتھری بننے کا امکان اتنا ہی کم ہوسکتا ہے۔
اسی لیے غذا میں سائٹریٹ سے بھرپور غذائیں، خصوصاً ترش پھل، شامل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جن مریضوں میں بار بار گردے کی پتھری بننے کا خطرہ ہوتا ہے، انہیں بعض اوقات ڈاکٹر سائٹریٹ سپلیمنٹس بھی تجویز کرتے ہیں۔
ایک اور اہم عنصر خون میں یورک ایسڈ کی سطح ہے۔ یورک ایسڈ کے کرسٹل خود بھی پتھری بنا سکتے ہیں یا پہلے سے موجود پتھری کی سطح پر جمع ہوکر اسے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس سے علاج مشکل ہوسکتا ہے۔ یورک ایسڈ کی مقدار پر خاص طور پر حیوانی غذاؤں کے استعمال سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

