سکھر (رپورٹ: عبد الرحمان راجپوت)
ضلع گھوٹکی کے علاقے خانپور مہر سے تعلق رکھنے والے نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر اور صحافی عظیم سیال کے مبینہ اغوا اور تاحال بازیابی نہ ہونے کے خلاف سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے سکھر پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکریٹری کامران شیخ، خازن شہزاد تابانی، سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبھن، جنرل سیکریٹری احقر رضوی، خازن کاشف پھلپوٹو اور سندھ وومین جرنلسٹس کی صدر سحرش کھوکھر سمیت دیگر صحافی رہنماؤں نے کی۔ مظاہرے میں شریک صحافیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور عظیم سیال کی فوری، محفوظ اور بلا تاخیر بازیابی کے لیے شدید نعرے بازی کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی و دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے جہاں شہری چوری، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کے باعث عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحافی بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران محفوظ نہ رہیں تو یہ آزادیٔ اظہار اور صحافتی برادری کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ عظیم سیال کی بازیابی میں تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
صحافتی رہنماؤں نے آئی جی سندھ، وزیرِ داخلہ سندھ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ عظیم سیال کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر عظیم سیال کو جلد باحفاظت آزاد نہ کرایا گیا تو سکھر یونین آف جرنلسٹس، پریس کلبوں اور سول سوسائٹی کے تعاون سے احتجاجی تحریک کا دائرہ کار پورے صوبے میں وسیع کرے گی۔
مظاہرے میں وکلاء رہنما سندر چاچڑ، سینئر صحافی سلیم سہتو، ممتاز بخاری، شاہد علی، یاسر فاروقی، اسحاق کھوسو، شاہد چنہ، بلاول بھٹی، بابر کھوکھر، عبدالغفور شیخ، وقاص آرائیں، جمیل مغل، مجاہد بوزدار، عثمان گھنیو، مجید نواز مغل، جاوید گھنیو، سید جواد شاہ، رضوان لودھی، مشتاق منگریو، عقیل قریشی، فضل الرحمان، اورنگزیب ماکو، دیدار انڑ، اے ڈی گھنیو اور علی ڈنو شاہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

