پشاور (رپورٹ/ انورزیب خان)
45 روز سے لاپتہ رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کی بازیابی کے لیے انسانی حقوق تنظیم متحرک ہو گئی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس سلسلے میں جلد ڈی پی او نوشہرہ سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
نوشہرہ کے تھانہ اضاخیل کی حدود، علاقہ امان گڑھ کے غریب رکشہ ڈرائیور جاوید کی بیٹی گزشتہ 45 روز سے مبینہ طور پر لاپتہ ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہے۔ بیٹی کی بازیابی کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نوشہرہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تنظیم کے مرکزی چیئرمین ملک حبیب اورکزئی کی ہدایت پر انچارج کمپلینٹ سیل خیبرپختونخوا عالم جان دورانی، نوشہرہ کے صدر عابد سلطان اور جنرل سیکرٹری ذاکر خان نے امان گڑھ پہنچ کر متاثرہ رکشہ ڈرائیور جاوید سے ملاقات کی اور ہر ممکن قانونی و انسانی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تنظیم کے نمائندے جلد ڈی پی او نوشہرہ سے ملاقات کر کے متاثرہ خاندان کے تحفظات اور لڑکی کی بازیابی پر بات چیت کریں گے، جبکہ اعلیٰ حکام سے بھی رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ رکشہ ڈرائیور جاوید نے سوشل میڈیا پر اپنے فریادی بیان میں انتہائی کسمپرسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹی کی گمشدگی کے باعث شدید پریشان ہے اور پچھلے ۳ ماہ سے مکان کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ تھانہ اضاخیل پولیس نے بیٹی کی بازیابی کے بدلے رقم (رشوت) کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ:لاپتہ لڑکی کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں۔واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔متاثرہ خاندان کو ہر ممکن قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے۔

