نیتن یاہو کے ڈائس پر آتے ہی ہال خالی ہو گیا؛ عرب، اسلامی اور دیگر ممالک کے مندوبین کا شدید احتجاج
نیویارک (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے سفارت کاروں اور مندوبین نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اجلاس کے ہال سے واک آؤٹ کیا۔
تفصیلات کے مطابق جیسے ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو روایتی خطاب کے لیے ڈائس پر پہنچے، عرب و اسلامی ممالک سمیت دنیا کے درجنوں ممالک کے نمائندوں نے احتجاجاً اپنی نشستیں چھوڑ دیں اور ہال سے باہر نکل گئے۔ بائیکاٹ کے باعث جنرل اسمبلی کا ہال چند لمحوں میں ہی بڑی حد تک خالی نظر آنے لگا۔
اجلاس کے ہال سے باہر نکلنے والے مندوبین نے اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ و خطے میں جاری مظالم پر شدید غصے اور عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ہال کے اندر اور باہر بعض مندوبین کی جانب سے احتجاجی نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق درجنوں ممالک کا یہ اجتماعی واک آؤٹ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں اسرائیلی اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف شدید تشویش اور برہمی پائی جاتی ہے۔

