جیکب آباد(رپورٹ:بیوروچیف بے نقاب نیوز)
جیکب آباد میں ایک نجی میڈیکل سینٹر میں زیرِ علاج خاتون جاں بحق ہوگئی، جس کے بعد خاتون کے ورثاء نے ڈاکٹر اور طبی عملے پر مبینہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے ورثاء کی شکایت پر سٹی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے ایک نجی میڈیکل سینٹر میں زیرِ علاج سونیا زوجہ آصف سدھایو جاں بحق ہوگئی۔ متوفیہ کے بھائی امیر بخش کے مطابق وہ اپنی بہن کو علاج کے لیے نجی میڈیکل سینٹر لے کر آئے تھے، جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ کو خون کی شدید ضرورت ہے۔ ورثاء نے خون کا انتظام کیا، جس کے بعد طبی عملے کی جانب سے مریضہ کو انجیکشن لگایا گیا۔
امیر بخش کا کہنا ہے کہ انجیکشن لگنے کے بعد مریضہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور کچھ ہی دیر بعد وہ جاں بحق ہوگئی۔ ورثاء نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگانے سے ری ایکشن ہوا، جس کے نتیجے میں مریضہ کی حالت بگڑی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔
واقعے کے خلاف ورثاء نے متوفیہ کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ احتجاج کے بعد پولیس نے ورثاء کی شکایت پر سٹی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب نجی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر زيب النساء کا کہنا ہے کہ مریضہ کو ورثاء علاج کے لیے لائے تھے اور اسے مناسب طبی سہولیات اور علاج فراہم کیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق مریضہ شدید خون کی کمی کا شکار تھی اور دل بند ہونے کے باعث جاں بحق ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ خاتون کی موت کی حتمی وجہ طبی اور تفتیشی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

