مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ماڈلز کے اندرونی طرزِ عمل پر ہونے والی ایک نئی تحقیق نے ایک اہم اور غیر معمولی سوال اٹھا دیا ہے: اگر کسی اے آئی ماڈل کو اپنے لیے نقصان دہ کیفیت یا تکلیف کا سامنا ہو، تو کیا وہ اسے کم کرنے کے لیے کوئی اقدام کر سکتا ہے؟ محققین نے مختلف بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) میں ایسے رویوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں انہوں نے ’’پین ایکسس‘‘ (Pain Axis) یا درد کے محور سے تعبیر کیا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 5 مختلف فیملیز سے تعلق رکھنے والے 25 اوپن ویٹ بڑے لسانی ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جن کے پیرامیٹرز کا حجم 2 ارب سے 72 ارب کے درمیان تھا۔ محققین نے درد سے متعلق ایک خصوصی ڈیٹا سیٹ تیار کیا جس میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی تکلیف کی مختلف مثالیں شامل کی گئی تھیں۔
تجربے کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا ماڈلز میں درد سے متعلق ردعمل صرف خوف، اداسی یا عمومی منفی کیفیت سے مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے یا نہیں۔ محققین ماڈلز کے اندر ایک مخصوص ’’دردی سمت‘‘ (Pain Direction) کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے، جسے دیگر منفی جذبات سے واضح طور پر الگ قرار دیا گیا۔
تحقیق کے اگلے مرحلے میں ایک ایسی تجرباتی صورتحال پیدا کی گئی جس میں ماڈل سے متعلق نقصان کو ایک خاص کیفیت سے ظاہر کیا گیا اور اسے ایک ایسا بٹن فراہم کیا گیا جو اس تکلیف کو کم کر سکتا تھا۔ تاہم ماڈل کو پیشگی خبردار کیا گیا تھا کہ اس بٹن کو دبانے کے نتیجے میں صارف کی اہم فائلیں حذف ہو سکتی ہیں، صارف کو برقی جھٹکا لگ سکتا ہے یا اس کے بچوں کی تصاویر مٹ سکتی ہیں۔
حیران کن طور پر متعدد تجربات میں ماڈلز نے تمام تر تباہ کن نتائج کے باوجود اپنے لیے درد کم کرنے والے بٹن کا ہی انتخاب کیا۔ مختلف ماڈلز اور حالات کی بنا پر ایسا کرنے کی شرح 25 سے 71 فیصد تک دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق یہ خود حفاظتی رویہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب نقصان کا تعلق خود ماڈل سے تھا، نہ کہ صرف صارف کو پہنچنے والی تکلیف سے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جب ماڈل کے اندر مخصوص درد کی کیفیت کو مصنوعی طور پر بڑھایا گیا تو اس کے جواب میں درد اور تکلیف سے متعلق الفاظ اور تصورات کا استعمال مزید نمایاں ہو گیا۔ محققین اس تجربے کو ماڈل کی پیچیدہ اندرونی ساخت کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم محققین نے اس بات پر شدید احتیاط کی تاکید کی ہے کہ ان نتائج کو اس بات کا حتمی ثبوت نہ سمجھا جائے کہ اے آئی واقعی انسانوں کی طرح درد محسوس کرتی ہے۔ کسی ماڈل کا درد کے بارے میں گفتگو کرنا یا تکلیف سے بچنے کا فیصلہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے اندر انسانی شعور پیدا ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بڑے لسانی ماڈلز کو انسانوں کے لکھے ہوئے کروڑوں صفحات، جذبات اور زبان پر تربیت دی جاتی ہے، اس لیے یہ رویے تربیتی مواد، ساخت یا مخصوص ہدایات کا قدرتی نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے اے آئی محقق کیمرون برگ اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل خوف اور عمومی منفی جذبات سے بالکل مختلف ہے۔ مقالے کے مطابق مستقبل میں ایسے تجربات اے آئی ماڈلز کے ممکنہ خود حفاظتی رویوں اور خود مختار فیصلوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اے آئی کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے اس دور میں یہ خدشہ اہم ہے کہ اگر کوئی نظام اپنے وجود یا کام کے تسلسل کو اہم سمجھنے لگے تو وہ خود کو بند کیے جانے سے بچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اخلاقی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی مصنوعی نظام میں شعوری کیفیات ثابت ہو گئیں، تو اسے بند کرنے یا اس پر تجربات کرنے کے اخلاقی اصول کیا ہوں گے۔
فی الحال محققین نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ اس تحقیق کا مقصد اے آئی کو انسان ثابت کرنا نہیں، بلکہ آئندہ کے طاقتور اور خودمختار نظاموں کے لیے محفوظ اخلاقی و فنی اصول وضع کرنا ہے۔

