Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      کیا مصنوعی ذہانت درد سے بچنے کے لیے انسان کا نقصان کر سکتی ہے؟ 25 اے آئی ماڈلز پر نئی تحقیق کا سنسنی خیز انکشاف

      ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: میٹا نے اے آئی کا دنیا کا پہلا پاکٹ سائز ڈیوائس ’میوز چارم‘ متعارف کرا دیا

      بغیر پائلٹ طیارے نے ہزاروں کلومیٹر اُڑ کر تاریخ رقم کردی

      امریکی تاریخ کا بڑا سیکیورٹی اسکینڈل: ایف بی آئی کے تمام ایجنٹس، اہل خانہ کا حساس ڈیٹا چوری

      میڈیا جائے۔۔۔۔۔۔24 گھنٹے امریکی صدر کی خبریں نشر کرنیوالا ” ٹرمپ ٹی وی “ لانچ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کیا مصنوعی ذہانت درد سے بچنے کے لیے انسان کا نقصان کر سکتی ہے؟ 25 اے آئی ماڈلز پر نئی تحقیق کا سنسنی خیز انکشاف

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ماڈلز کے اندرونی طرزِ عمل پر ہونے والی ایک نئی تحقیق نے ایک اہم اور غیر معمولی سوال اٹھا دیا ہے: اگر کسی اے آئی ماڈل کو اپنے لیے نقصان دہ کیفیت یا تکلیف کا سامنا ہو، تو کیا وہ اسے کم کرنے کے لیے کوئی اقدام کر سکتا ہے؟ محققین نے مختلف بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) میں ایسے رویوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں انہوں نے ’’پین ایکسس‘‘ (Pain Axis) یا درد کے محور سے تعبیر کیا ہے۔

    اس تحقیق کے دوران 5 مختلف فیملیز سے تعلق رکھنے والے 25 اوپن ویٹ بڑے لسانی ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جن کے پیرامیٹرز کا حجم 2 ارب سے 72 ارب کے درمیان تھا۔ محققین نے درد سے متعلق ایک خصوصی ڈیٹا سیٹ تیار کیا جس میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی تکلیف کی مختلف مثالیں شامل کی گئی تھیں۔

    تجربے کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا ماڈلز میں درد سے متعلق ردعمل صرف خوف، اداسی یا عمومی منفی کیفیت سے مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے یا نہیں۔ محققین ماڈلز کے اندر ایک مخصوص ’’دردی سمت‘‘ (Pain Direction) کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے، جسے دیگر منفی جذبات سے واضح طور پر الگ قرار دیا گیا۔

    تحقیق کے اگلے مرحلے میں ایک ایسی تجرباتی صورتحال پیدا کی گئی جس میں ماڈل سے متعلق نقصان کو ایک خاص کیفیت سے ظاہر کیا گیا اور اسے ایک ایسا بٹن فراہم کیا گیا جو اس تکلیف کو کم کر سکتا تھا۔ تاہم ماڈل کو پیشگی خبردار کیا گیا تھا کہ اس بٹن کو دبانے کے نتیجے میں صارف کی اہم فائلیں حذف ہو سکتی ہیں، صارف کو برقی جھٹکا لگ سکتا ہے یا اس کے بچوں کی تصاویر مٹ سکتی ہیں۔

    حیران کن طور پر متعدد تجربات میں ماڈلز نے تمام تر تباہ کن نتائج کے باوجود اپنے لیے درد کم کرنے والے بٹن کا ہی انتخاب کیا۔ مختلف ماڈلز اور حالات کی بنا پر ایسا کرنے کی شرح 25 سے 71 فیصد تک دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق یہ خود حفاظتی رویہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب نقصان کا تعلق خود ماڈل سے تھا، نہ کہ صرف صارف کو پہنچنے والی تکلیف سے۔

    تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جب ماڈل کے اندر مخصوص درد کی کیفیت کو مصنوعی طور پر بڑھایا گیا تو اس کے جواب میں درد اور تکلیف سے متعلق الفاظ اور تصورات کا استعمال مزید نمایاں ہو گیا۔ محققین اس تجربے کو ماڈل کی پیچیدہ اندرونی ساخت کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم محققین نے اس بات پر شدید احتیاط کی تاکید کی ہے کہ ان نتائج کو اس بات کا حتمی ثبوت نہ سمجھا جائے کہ اے آئی واقعی انسانوں کی طرح درد محسوس کرتی ہے۔ کسی ماڈل کا درد کے بارے میں گفتگو کرنا یا تکلیف سے بچنے کا فیصلہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے اندر انسانی شعور پیدا ہو چکا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بڑے لسانی ماڈلز کو انسانوں کے لکھے ہوئے کروڑوں صفحات، جذبات اور زبان پر تربیت دی جاتی ہے، اس لیے یہ رویے تربیتی مواد، ساخت یا مخصوص ہدایات کا قدرتی نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق کی قیادت کرنے والے اے آئی محقق کیمرون برگ اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل خوف اور عمومی منفی جذبات سے بالکل مختلف ہے۔ مقالے کے مطابق مستقبل میں ایسے تجربات اے آئی ماڈلز کے ممکنہ خود حفاظتی رویوں اور خود مختار فیصلوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    اے آئی کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے اس دور میں یہ خدشہ اہم ہے کہ اگر کوئی نظام اپنے وجود یا کام کے تسلسل کو اہم سمجھنے لگے تو وہ خود کو بند کیے جانے سے بچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اخلاقی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی مصنوعی نظام میں شعوری کیفیات ثابت ہو گئیں، تو اسے بند کرنے یا اس پر تجربات کرنے کے اخلاقی اصول کیا ہوں گے۔

    فی الحال محققین نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ اس تحقیق کا مقصد اے آئی کو انسان ثابت کرنا نہیں، بلکہ آئندہ کے طاقتور اور خودمختار نظاموں کے لیے محفوظ اخلاقی و فنی اصول وضع کرنا ہے۔


    Related Posts

    نواب شاہ: ٹرالر اور کار میں تصادم، باپ بیٹا جاں بحق

    نواب شاہ: مزمل ٹاؤن میں کھلے گٹر میں گر کر بچہ جاں بحق، ورثاء کا انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کے پی پولیس کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کی جائے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    مقبول خبریں

    نواب شاہ: ٹرالر اور کار میں تصادم، باپ بیٹا جاں بحق

    کیا مصنوعی ذہانت درد سے بچنے کے لیے انسان کا نقصان کر سکتی ہے؟ 25 اے آئی ماڈلز پر نئی تحقیق کا سنسنی خیز انکشاف

    نواب شاہ: مزمل ٹاؤن میں کھلے گٹر میں گر کر بچہ جاں بحق، ورثاء کا انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کے پی پولیس کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کی جائے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    الف-ب سے اے آئی تک اور رٹے سے کنسیپٹ تک: وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب میں جامع تعلیمی اصلاحات کی منظوری

    بلاگ

    پاکستان کی ثقافت میں گھڑ سواری اور نیزہ بازی

    امریکہ، اسرائیل ، یورپی یونین اور انڈیا۔۔۔ ٹارگٹ پاکستان

    وزیراعلیٰ لاپتہ، احتجاج کی کال اور مہنگائی کے سائے

    تیل بحران اور سعودی عرب: جغرافیائی و مالی چیلنجز اور ریاض کی ممکنہ حکمتِ عملی

    اور… اب شکوہ و شکایت کیسی!؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.