اقوام متحدہ : ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک غیر معمولی جنگی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اور ایران نے کسی ملک پر جارحیت نہیں کی بلکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے کارروائی کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ایرانی صدر نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہلاک ہونے والے 150 سے زائد ایرانی اسکولی بچوں کی بڑی تصاویر بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صرف اپنے دفاع کے لیے کارروائی کی اور اسے دہشت گرد ملک قرار دینا درست نہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہاکہ ’’ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہمارے بے گناہ عوام کو بزدلانہ حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنایا گیا اور ہم نے پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا۔‘‘ انہوں نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کے باوجود ایران نے دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ ایرانی صدر نے اپنی تقریر کے اختتام کے قریب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے استعمال کی زبان کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
پزشکیان نے کہا کہ ’’ٹرمپ اور ان تمام لوگوں کو جو ہمیں دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔‘‘ ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ ایرانی صدر کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سفارتی سطح پر اہم سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔
مسعود پزشکیان سخت سکیورٹی اور عالمی توجہ کے درمیان نیویارک پہنچے۔ ایران کے سیاسی منظرنامے میں نسبتاً اعتدال پسند سمجھے جانے والے پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ میں خطاب کے ایک روز بعد جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ ٹرمپ نے ایک روز قبل اقوام متحدہ کے اسی پلیٹ فارم سے ایران کے ساتھ جلد کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کو ’’تباہ‘‘ کرنے کی بات کی تھی۔

