نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے شالیمار ولیج میں انتظامیہ کی جانب سے رات کی تاریکی میں کارروائی کرتے ہوئے مدینہ مسجد کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا ہے۔ رات گئے کی گئی اس انہدامی کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی، جس کی وجہ سے علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا۔
📍 शालीमार विलेज, दिल्ली
बीती रात शालीमार विलेज में मदीना मस्जिद पर बुलडोज़र कार्रवाई की गई। प्रशासन ने मस्जिद को कथित तौर पर अवैध निर्माण बताते हुए देर रात ध्वस्तीकरण की कार्रवाई शुरू की।
स्थानीय लोगों के मुताबिक, भारी पुलिस बल की मौजूदगी में रात के अंधेरे में बुलडोज़र चलाए… pic.twitter.com/b8EfsCOLLd
— Muslim Voice Cell (@MuslimVoiceCell) September 23, 2026
مقامی مسلمان شہریوں نے نے اس کارروائی پر شدید غصے اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو کڑے ہاتھوں لیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر رات کے اندھیرے میں بلڈوزر چلانے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کارروائی کے لیے دن کے بجائے رات کا وقت کیوں چنا گیا؟ اور کیا مقامی لوگوں کو ان کے قانونی اور مذہبی تحفظات کا اظہار کرنے کا کوئی مناسب موقع فراہم کیا گیا تھا؟
اننطامبہ نے مسجد کے ساتھ واقع کئی مسلمانوں کے گھروں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی زمین کے برابر کردیا گیا،
مقامی مذہبی حلقوں اور شہریوں نے انتظامیہ کے اس متنازع اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فوری اور رات کی کارروائی کے ذمہ داران کا محاسبہ کیا جائے، جبکہ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھے جا رہے ہیں۔

