اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پاکستان کے پاور سسٹم کو جدید اور مستحکم بنانے کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کی خرید و فروخت کے دہائیوں پرانے ‘سنگل بائر ماڈل’ (Single Buyer Model) کو ختم کر کے ایک آزاد اور مسابقتی بازار (Competitive Trading Bilateral Contract Market – CTBCM) میں منتقل کرنے کے اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کے نفاذ کے بعد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (Power Producers) اور بڑی صنعتی و تجارتی کمپنیاں (Bulk Power Consumers) مرکزی خریدار (CPPA-G) کی درمیانداری کے بغیر آپس میں براہِ راست بجلی کی خریداری کے معاہدے کر سکیں گی۔ اس قدم سے بجلی کے شعبے میں اجارہ داری ختم ہوگی اور مسابقت کے بڑھنے سے قیمتوں میں نمایاں کمی اور شفافیت آئے گی۔
پاور ہاؤسز اور توانائی کے ماہرین نے اس پیش رفت کو بجلی کی صنعت کے لیے سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس انقلابی اقدام سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں (Circular Debt) کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو قابو کرنے اور نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ بالواسطہ طور پر بجلی کے صارفین کو بھی معیاری اور مناسب قیمت پر بجلی میسر آ سکے گی۔

