بلوچستان (رحمت اللہ بلوچ – بیورو چیف بے نقاب نیوز)
حکومت بلوچستان کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) میں جاری واٹر سپلائی اسکیموں میں بڑے پیمانے پر مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ چیف انجینئر (ساؤتھ) کی جانب سے سیکرٹری PHE کو ارسال کردہ ایک باضابطہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ضلع لسبیلہ میں مختلف ترقیاتی منصوبے نہ صرف ادھورے ہیں بلکہ کئی اسکیمیں غیر فعال یا ناقص حالت میں پائی گئی ہیں۔
مراسلے کے مطابق چیف انجینئر نے ابتدائی انسپکشن رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خود لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا، جہاں حب اور ہنگلاج ماتا مندر سمیت مختلف علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں کا جائزہ لیا گیا۔ دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر اور ماتحت عملے کی جانب سے شدید غفلت برتی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2020-21، 2021-22 اور 2022-23 کی بیشتر اسکیمیں نامکمل یا غیر فعال ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ لاکھوں روپے مالیت کے سولر پینلز اور دیگر سامان بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کھلے عام سڑکوں کے کنارے پڑے پائے گئے، جو بدانتظامی اور لاپرواہی کی واضح مثال ہے۔
دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سرکاری ٹھیکیدار کمپنی کو ناقص کارکردگی کے باوجود پیشگی ادائیگیاں اور سیکیورٹی ڈپازٹ کی واپسی کر دی گئی، جو بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ٹھیکیدار کو غیر ضروری فائدہ پہنچا بلکہ محکمہ کی عملداری بھی متاثر ہوئی۔
مزید برآں، انسپکشن کے دوران متعلقہ ریکارڈ اور معلومات کی فراہمی میں بھی سنگین رکاوٹیں سامنے آئیں۔ سب ڈویژنل کلرک اور سب انجینئر نے مطلوبہ ریکارڈ، جیسے کہ ماہانہ حسابات، ریونیو ڈیٹا اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے میں عدم تعاون کا مظاہرہ کیا، جس پر چیف انجینئر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ بے ضابطگیوں پر فوری طور پر باضابطہ انکوائری شروع کی جائے اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ افسران کو لسبیلہ سے تبدیل کیا جائے۔
چیف انجینئر نے مزید ہدایت دی ہے کہ جن ٹھیکیداروں اور کمپنیوں نے منصوبے مکمل نہیں کیے، انہیں آئندہ کسی بھی ٹینڈر میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق یہ انکشافات صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


