واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم قانون "لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026” پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت روس پر تجارتی و اقتصادی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات (Tariffs) عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانون کے تحت ایران پر عائد روایتی پابندیوں میں بھی مزید پانچ سال کی توثیق کر دی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد نافذ ہونے والے اس نئے قانون کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیتوں کو مالیاتی سرپرستی فراہم کرنے والے ذرائع پر کاری ضرب لگانا ہے۔
اس قانون کے تحت روسی قیادت، مالیاتی اداروں، دفاعی نیٹ ورکس اور روسی توانائی کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے مبینہ "شیڈو فلیٹ” (Shadow Fleet) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی صدر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ روسی خام تیل یا قدرتی گیس درآمد کرنے والے سرفہرست ممالک (جن میں بڑے خریدار ممالک بھی شامل ہیں) کی درآمدات پر 100 فیصد تک ڈیوٹی عائد کر سکتے ہیں۔
دریں اثنا سنہ 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ میں پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے تاکہ تہران کے توانائی اور عسکری شعبوں پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی تجارت اور جیو پولیٹیکل محاذ آرائی میں شدت آتی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑنے کا قوی امکان ہے۔ اب دنیا پھر سرد جنگ کے دور میں واپس جارہی ہے اور دنیا اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیر قطبی ہوچکی ہے ۔
سرد جنگ کا دور واپس!صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس و ایران پر تاریخی پابندیوں کے بل پر دستخط کردئیے

