سیالکوٹ۔سلیم احمد اعوان شیخو
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے کرپشن، فراڈ، نااہلی اور سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ٹیمپرنگ کے الزامات پر سرکاری افیسران و ماتحت کے خلاف کارروائی تیز کردی۔ سپیشل پرائس مجسٹریٹ سمیت متعدد افیسران و ماتحت ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ کئی ملازمین کو معطل اور بعض کی خدمات متعلقہ محکموں کو واپس کردی گئی ہیں۔پتہ چلا ہے کہ تحصیل سپورٹس آفیسر سیالکوٹ عدنان سلیم کے خلاف ریکارڈ میں ٹیمپرنگ اور کرپشن کے الزامات کی انکوائری کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ان کی خدمات متعلقہ محکمے کو واپس کرتے ہوئے اس کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔
میونسپل کارپوریشن سیالکوٹ کے دو بلڈنگ انفورسمنٹ انسپکٹرز سینئر کلرک یاسر عرفان اور ٹیکس کلرک سجاد سلہریا کو بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات پر معطل کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کے دفتر کے آفس اسسٹنٹ محمد الیاس اور رجسٹریشن آفس کے کلرک محمد شہباز کو بھی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے نائب قاصد عاصم صدیق، محمد رضوان اور احسان اللہ جبکہ چوکیدار شاہ نواز کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔مذکورہ ملازمین کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فراڈ اور لینڈ ریکارڈ میں تحریف کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ہارٹیکلچرل اتھارٹی سیالکوٹ کے مالی وسیم اختر کو بھی کرپشن کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔ پیرا فورس سیالکوٹ کے انفورسمنٹ آفیسر منظر حسین کی ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور سزا کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔ منظر حسین کے سیالکوٹ سے تبادلے کے باوجود سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔ سینئر سارجنٹ محمد وقاص کی خدمات واپس کردی گئی ہیں جبکہ سارجنٹ ثقلین کی برطرفی کی سفارش کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کرپشن اور نااہلی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ کرپٹ اور نا اہل افیسران و ماتحت ملازمین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو سرکاری امور میں بدعنوانی یا غفلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


