تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا ہے کچھ ایسی طاقتیں ہیں جو پاکستان اور سعودی عریبیہ کو براہ راست جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہے جیسا کہ اپ دیکھ سکتے ہیں
اس وقت سعودی عرب کو یمن سے حوثیوں کی صورت میں وہی خطرات لاحق ہیں جو پاکستان کو افغانستان سے طالبان کی صورت میں لاحق رہے ہیں۔ جس طرح پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ’’جہاد‘‘ بول کر اسے رومانٹائز کرنے والا طبقہ موجود رہا ہے، ٹھیک ویسے ہی حوثی کارروائیوں کو جواز اور ’’جہاد‘‘ قرار دینے والے بھی جابجا بکھرے نظر آئیں گے۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ ریاستیں ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر دوست و دشمن کا تعین کرتی ہیں اور کوئی بھی ملک آپ کا مستقل دوست یا ازلی دشمن نہیں ہوتا۔
لیکن اگر آپ پاکستان کی بات کریں تو تین ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کے دیرینہ دوست رہے ہیں۔ ریاستی مفاد کچھ بھی ہو، عالمی محاذ پر پاکستان ہمیشہ ان تین ممالک کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا، جن میں ایک چین، دوسرا سعودی عرب اور تیسرا ترکی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دو ازلی دشمن ہیں، جن میں سے ایک بھارت اور دوسرا اسرائیل ہے، حالانکہ ان کے ڈی این اے والا ایک اور ملک بھی بڑی خواہش رکھتا ہے کہ پاکستان اسے بھی اس فہرست میں شامل کرے، مگر اب تک پاکستان اسے اس قابل نہیں سمجھتا۔
لہٰذا آج اگر سعودی عرب پر حملے ہو رہے ہیں تو شرپسند عناصر کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بہت جلد آپ کی یہ خوشی مستقل غم میں بدلنے والی ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو مکہ دفاعی معاہدے پر حالتِ مرگ میں تھے، پاکستان کو واسطے دے دے کر دہائیاں دیتے تھے کہ عرب خطے کی جنگ میں نہ کودنا، اور آج طعنہ زنی کر رہے ہیں کہ آخر یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی مدد سے ’’ڈر‘‘ کیوں رہا ہے؟
اب چونکہ یہ نہ پڑھے لکھے ہیں، نہ ہی انہیں جیوپولیٹکس کی سمجھ ہے، لہٰذا جو پاپولر بیانیہ انہیں نظر آتا ہے، یہ اسی پر جا بیٹھتے ہیں۔ انہیں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ آج اگر سعودی عرب ابراہام اکارڈ کا حصہ بن جائے تو کل ہی اس پر حملے بند ہو جائیں گے۔
ایران اسرائیل جنگ کی ابتداء میں جب ایران نے سعودی سرزمین پر حملہ کیا تھا، تب بھی سعودی وزیر خارجہ اس جنگ کو خطے سے باہر رکھنے کے لیے پاکستان اور ترکی کے ساتھ مل کر تگ و دو کر رہے تھے، کیونکہ دشمنوں کی اصل سازش ہی سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹنا ہے کہ جونہی سعودی عرب اعلانِ جنگ کرے گا، تو ساتھ ہی تمام مسلم دنیا حالتِ جنگ میں آ جائے گی۔
مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستانی سیکیورٹی آفیشلز دبے لفظوں میں کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ بتا چکے ہیں کہ ہر فریق مکمل تیار بیٹھا ہے۔ جونہی خطرے کا شکار ملک لال بتی جلائے گا، باقی دونوں ممالک اپنی تیار کردہ آپریشنل صلاحیتوں کو بروئے کار لے آئیں گے، اور یہ سب کام اتنے سلیقے اور خفیہ طریقے سے ہو رہا ہے کہ دشمنوں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہو پا رہی ہے ۔ دشمن چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ پراکسیوں کے خلاف ایکٹیو ہو تاکہ وہ اصل دشمن خبردار رہ سکے کہ اسکی نوعیت کیسی ہوگی پھر چاہے وہ دشمن پاکستان کے پڑوس میں ہو یا مشرق وسطیٰ میں بیٹھا ہو۔
ویسے سعودی عرب پر حملوں سے قبل دشمن یہ چال افغانستان میں پاکستان کے خلاف اور شام میں ترکی کے خلاف چل چکے ہیں، مگر ایک حد سے آگے بڑھنے سے باز رہے۔ اب یہی چال سعودی عرب کے لیے چلی جا رہی ہے۔
امید ہے سعودی عرب ان خطرات سے نمٹ لے گا۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکا تو پھر مکہ دفاعی معاہدے پر ہنسنے والے اپنی پراکسی کے پرخچے اڑتے دیکھ کر بین کرتے ہوئے یہیں سوشل میڈیا پر جابجا بکھرے، تڑپتے نظر آ ہی جائیں گے۔


