لاہور:صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور دورے کے دوران اس وقت ڈرامائی موڑ آ گیا جب مرحوم اشتیاق کی فیملی کا ایک اہم ویڈیو بیان سامنے آگیا، جس نے تمام سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ویڈیو ثبوت پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مرحوم اشتیاق کے لواحقین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی موت ایک حادثہ تھی اور اس میں حکومت یا پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجہ کی موجودگی میں خاندان کا ایک فرد یہ کہہ رہا ہے کہ حادثے کے بعد سترہ دن تک پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی ان کا حال پوچھا۔ عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ جب فیملی کے اس فرد نے حقیقت بیان کی تو موقع پر موجود سہیل آفریدی کے گارڈز نے غصے میں آکر اس پر تشدد شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گارڈز نے آج لاہور میں کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔
عظمیٰ بخاری نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "تحریک فساد” کے یوٹیوبرز نے اس واقعے کو دانستہ طور پر غلط رنگ دیا، جبکہ سہیل آفریدی محض پبلک اسٹنٹ کرنے اور کالا چشمہ لگا کر لاہور پوائنٹ اسکورنگ کے لیے پہنچے ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کہ پشاور سے 530 کلومیٹر کا سفر طے کرکے لاہور آنے والے سہیل آفریدی کو کوہاٹ میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے جاں بحق ہونے والے چار مزدوروں کی کوئی پروا نہیں تھی، جہاں انہیں فوری طور پر پہنچنا چاہیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاشوں پر سیاست کرنا بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے، اور تین سال گزرنے کے باوجود آج تک کسی رہنما نے مرحوم ظل شاہ کے گھر کا رخ نہیں کیا۔

