Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

      ہائیبرڈ گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، لمبے انتظار کے بعد سیلز ٹیکس میں کمی!

      چینی قونصل جنرل اور علی ڈار کی ملاقات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

       خام تیل کو صاف کرنے کے لیے چینی نئی ٹیکنالوجی تیار

      مصنوعی ذہانت بڑا خطرہ،عالمی ٹیک باباؤں نے گھنٹی بجا دی: ا اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”ٹریفک مینجمنٹ میں ناکام پولیس سے چھٹکارا ناگزیر: سول انتظامی افسران اور ملٹری پولیس بہترین متبادل“ ملک محمد سلمان کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :ملک محمد سلمان
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے ٹریفک پولیس اربوں روپے ماہانہ کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی ”ایزی منی” اور ”پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ مبینہ طور پر چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔ لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟
    ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں۔
    ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا سیٹ بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔
    اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
    ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔
    بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ والوں کا سروے کیا تو ہر دوسرے ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ /گاڑی چلاتے ہیں اور اس کے عوض 2000روپے روزانہ دیتے ہیں۔
    2000کے حساب سے صرف لاہور میں 5لاکھ رکشہ،ٹویٹا، بس اور ٹرک ڈرائیور سے سے لگ بھگ 100کروڑ روپے روزانہ اکٹھا کیا جاتاہے۔
    اگر الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ، بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔
    رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟
    ٹریفک پولیس سمیت بہت ساری سرکاری گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔
    لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ گیارہ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان 16لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے ساٹھ کروڑ روزانہ،18ارب ماہانہ 216ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5903ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔
    مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم گارگو اڈے، گڈز سٹور، پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی؟
    ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔
    پنجاب سیف سٹیز کے کیمروں کی مدد سے ناجائز پارکنگ اور بلانمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹ سمیت مذکورہ بالا تمام قانون شکنیوں کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
    ٹریفک مینجمنٹ کا واحد علاج ٹریفک سسٹم کو پولیس سے آزاد کروانا ہے کیونکہ ابھی تک کے حالات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ٹریفک ٹھیک کرنے کی بجائے اپنا بینک بیلنس ٹھیک کرنے آتے ہیں۔سول انتظامی افسران کی بات کی جائے تو پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کی صورت انتہائی منظم و کامیاب مثال سامنے ہے جہاں رنگ روڈ کے قیام سے آج تک کبھی ٹریفک جام نہیں ہوئی۔ لاہور رنگ روڈ وزیراعلیٰ پنجاب کا اپنا روٹ بھی ہے اس کے مقابل ٹریفک پولیس کے زیرانتظام ایریا میں وزیراعلیٰ کئی دفعہ Displeasure جاری کرچکی ہیں۔
    ملٹری پولیس بھی بہترین متبادل ہے کیونکہ انکے ایم پی کمانڈر کو باقاعدہ ٹریفک کنٹرول کورس کروایا جاتا ہے پھر پوسٹنگ دی جاتی ہے نہ کہ پولیس کی طرح ”جا سمرن جی لے اپنی زندگی“

    Related Posts

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن: پشین، قلعہ عبداللہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد جہنم واصل، 5 گرفتار

    سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

    انسداددہشتگردی کی عدالت اسلام آباد کا تحریک انصاف کے 24 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

    مقبول خبریں

    سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

    انسداددہشتگردی کی عدالت اسلام آباد کا تحریک انصاف کے 24 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

    تصویر کا رخ پلٹ گیا: سہیل آفریدی کی موجودگی میں مرحوم اشتیاق کے لواحقین کا اعتراف، ہلاکت حادثہ قرار؛ پی ٹی آئی پر لاتعلقی کا الزام

    عوام کو ایک اور جھٹکا: اگست میں تھوک مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.92 فیصد ہو گئی

    مغربی بنگال حکومت نے 252 مدارس کو بند کرنے کا حکم دیا، 100 دیگر مدارس کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری

    بلاگ

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاموشی نہیں، تحفظ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے

    ”کیا پنجاب کو پہلی بار خاتون چیف سیکرٹری ملنے جا رہی ہے،آئی جی کون؟“

    سی سی پی او پشاور میاں سعید اور جنسی تشدد میں ملوث ملزمان کی ہلاکت

     عجیب و غریب ڈیمانڈیں  بروقت نکاح میں رکاوٹ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.