برسلز / برلن:یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لیین نے روسی حکام کو انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اب اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی روسی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے یہ بیان یورپی سرزمین پر روسی کارندوں کی جانب سے ملٹری گریڈ مواد کے استعمال سے کیے جانے والے ایک حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر یورپی یونین نے جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ارسلا وون ڈیر لیین کا کہنا تھا کہ اگر اس حملے کا مقصد یورپ کو یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹانا تھا، تو یہ کوشش بالکل ناکام ہو چکی ہے کیونکہ اس واقعے نے ان کے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپ اور نیٹو نہ صرف روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے بلکہ اس میں مزید اضافہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک روس یوکرین میں معصوم بچوں، مردوں اور عورتوں پر بمباری اور قتل و غارت گری بند نہیں کرتا۔
یادرہے جرمنی نے الزام لگایا ہے کہ گذشتہ ماہ لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔چار اگست کو مشرقی جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر یوکرینی مال بردار طیاروں کے قریب سے ایک ایسا ڈرون ملا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔
بظاہر ڈرون کا ڈیٹونیٹر خراب ہونے کی وجہ وہ پھٹ نہیں سکا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک دوسرا ڈرون قریبی علاقے میں ایک مال بردار طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق تیسرا ڈرون 10 روز بعد ہوائی اڈے کے نزدیک سے برآمد ہوا۔
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کا کہنا ہے کہ لیپزگ ہوائی اڈے پر حملہ ’یورپ میں روسی ہائبرڈ کارروائیوں کے طریقہ کار‘ سے مطابقت رکھتا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ جرمنی کو دوبارہ بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
"یورپ اب روسی جارحیت کو مزید برداشت نہیں کرے گا” ارسلا وون ڈیر لیی صدر یورپی کمیشن

