اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں سانحہ پمز سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ واقعے سے متعلق پمز کا تمام ریکارڈ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے غائب کردیا، جبکہ کمیٹی نے سانحے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں شریک سینیٹر ناصر بٹ نے بھی کہا کہ پمز واقعے کی اصل ویڈیو غائب کردی گئی ہے اور جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔
اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے افسوس ناک واقعے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر محمد سلمان اور کمیٹی ارکان نے شرکت کی۔
CMH ہسپتال میں آگ کیوں نہیں لگتی ، بتائیں وہاں کتنے بچے مر گئے کیا وہاں بچے نہیں پیدا ہوتے ؟ اس لیے کہ وہاں کرنل جنرل علاج کرواتے ہیں پمز میں تو کوئی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی علاج کروانا پسند نہیں کرتا ہو گا ! مسرور احسن ممبر قائمہ کمیٹی برائے صحت ۔۔ pic.twitter.com/ra6PvobfSX
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) August 31, 2026
اجلاس کے آغاز میں سانحے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہا کہ آج کا اجلاس پمز اسپتال کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، 14 نومولود بچوں کی اموات نے دل دہلا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی ارکان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کو مستقبل میں روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں بھی پمز اسپتال کے حوالے سے ناراضی کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم اسپتال میں اپ گریڈ سہولیات بھی موجود ہیں۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ممبران کا پمز کے نرسری وارڈ کا دورہ،ممبران نے وارڈ کا معائنہ کیا pic.twitter.com/cVwfFH4c7I
— Ali Tanoli (@alitanoli889) August 31, 2026
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آج کے اجلاس کا ایجنڈا صرف ایک نکاتی ہے اور وزارت صحت پمز حادثے کے حوالے سے کمیٹی کو مکمل بریفنگ دے۔
اجلاس کے دوران پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کمیٹی ارکان کو دکھائی گئی، تاہم فوٹیج پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹر ناصر بٹ نے فوٹیج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سی سی ٹی وی ویڈیو جعلی ہے، ہمیں اصل ویڈیو دکھائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک سیکنڈ کے اندر سب کچھ کیسے ختم ہوگیا؟ ان کا مطالبہ تھا کہ آگ لگنے کے وقت کی کم از کم دو منٹ کی مکمل ویڈیو کمیٹی کو دکھائی جائے۔
ناصر بٹ نے کہا کہ ویڈیو غائب کردی گئی ہے اور جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نرسری میں اس وقت کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور جو کچھ بتایا جارہا ہے وہ جھوٹ ہے۔
کمیٹی اجلاس میں پمز کے نرسز ہاسٹل میں پہلے لگنے والی آگ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ 6 جولائی کو بھی پمز نرسز ہاسٹل میں آگ لگی تھی لیکن ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے وزیر صحت کو اس واقعے سے آگاہ نہیں کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پہلے واقعے کا کوئی ثبوت محفوظ نہیں رکھا گیا تو اب اس معاملے کی انکوائری کیسے ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی آگ کیسے لگی۔
سینیٹر مسرور احسن نے پمز کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پر متعدد بار کرپشن کے الزامات لگنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق ای ڈی سے کچھ نہیں پوچھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایک آدمی کو بچانے کے لیے 14 نومولودوں کو کھا لیا گیا‘‘ اور سوال کیا کہ ’’یہ کوئی مذاق ہورہا ہے کیا؟‘‘
اسلام اباد ، پمز سانحہ
سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ MCH ٹریننگ سینٹر میں جاری ۔
سنیٹرز نے ای ڈی سمیت متعدد افسران جن کو معطل کیا گیا
کو گرفتار کر کے انکوائری کروانے کا مطالبہ کر دیا۔۔
ایک افسر جو سفارش پر لگایا گیا پھر اسے چار چار عہدے کیوں دئیے گئے ؟
ہلتھ کیر کمیشن
ائی ایچ… pic.twitter.com/ivHC2oXjoy— Naveed Satti (@Naveedsatti555) August 31, 2026
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پمز کا ریکارڈ سابق ای ڈی رانا عمران نے غائب کیا اور سابق ای ڈی کو بچایا جارہا ہے۔ مسرور احسن نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں بھی ایسے حادثات ہوتے رہیں گے۔
پمز انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے تقریباً ایک منٹ بعد نرسری میں داخل ہونا ناممکن ہوگیا تھا، جبکہ ڈیوٹی پر موجود نرس نے دروازے کے قریب موجود ایک بچے کو فوری طور پر ریسکیو کیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی عبوری رپورٹ بھی ارکان کو فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیراعظم کی کمیٹی نے 48 گھنٹے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی تھی۔ کمیٹی نے اسپتال کے اسٹاف کو طلب کرکے ان کے بیانات ریکارڈ کیے، جو رپورٹ کا حصہ ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہائی پاور کمیٹی پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا اور تحقیقات آزادانہ طور پر کی گئیں۔
وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ پمز کے نرسز ہاسٹل میں پہلے لگنے والی آگ کا علم انہیں پمز حادثے کے بعد ہوا۔ ان کے مطابق وزارت صحت کو اس واقعے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں پہلے لگنے والی آگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے پوچھا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ وزارت صحت کو آگ لگنے کے واقعے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ اے سی سے چنگاری نکلی جس کے بعد آگ لگی، جبکہ چیئرمین قائمہ کمیٹی کو یہ بتایا گیا تھا کہ اے سی خراب تھا۔
اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ پمز اسپتال کو ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے لائسنس کب جاری کیا اور اسپتال کا آخری بار معائنہ کب کیا گیا؟
چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ اتھارٹی کی جانب سے پمز اسپتال کو لائسنس جاری نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اتھارٹی نے پمز اسپتال کا کبھی معائنہ بھی نہیں کیا۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پمز اسپتال کے انکیوبیٹر پروٹوکول پر مناسب طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بھی ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ پمز اسپتال کی آخری انسپیکشن کب کی گئی تھی اور اس شخص کو اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کا سربراہ کس نے مقرر کیا؟
انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ شخص کا اپنا میڈیکل کالج ہے تو یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ روبینہ خالد نے وفاقی وزیر صحت سے کہا کہ ’’منسٹر صاحب، پہلی فرصت میں اس ادارے کو ختم کریں۔‘‘
اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ان کا استحقاق نہیں کہ وہ ادارے کو ختم کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی وزارت صحت کے ماتحت نہیں اور حکومت کا اس ادارے میں براہ راست عمل دخل نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ادارے کا بورڈ 2024 میں تشکیل دیا گیا تھا اور یہ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں آیا۔
قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی بھی اجلاس میں موجود تھے، تاہم کمیٹی ارکان کے سوالات کے مناسب جواب نہ دے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پمز کا آخری دورہ کچھ عرصہ قبل کیا گیا تھا۔
اجلاس میں پمز کی فائر سیفٹی پر بھی سخت سوالات کیے گئے۔ سینیٹر مسرور احسن نے پوچھا کہ فائر سیفٹی کا آخری مرتبہ معائنہ کب کیا گیا اور نرسری میں کتنے ایمرجنسی گیٹ موجود تھے؟
سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے سوال کیا کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں اسپرنکلرز موجود تھے یا نہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ نرسوں اور ڈاکٹروں نے بچوں کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے اور پمز کا اپنا فائر سیفٹی عملہ کہاں تھا۔
سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ سابق ای ڈی سمیت جن لوگوں کو معطل کیا گیا ہے انہیں کمیٹی کے سامنے بلایا جائے تاکہ ان سے سوالات کے جواب لیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی کو معطل کردیا گیا ہے لیکن وہ جوابدہ تو ہے۔
اس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جن لوگوں کو معطل کیا گیا ہے انہیں بلائیں اور ان سے تمام سوالات کے جواب لیں۔
ناصر بٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر کمیٹی کے سامنے کوئی جوابدہ ہی نہیں ہے تو پھر کمیٹی کیوں بلائی گئی؟
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں ڈاکٹر موجود تھے یا نہیں۔ کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ آگ لگنے کے وقت کوئی ڈاکٹر وہاں موجود نہیں تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کو پمز بلا کر بریفنگ لے لی جائے، اس وقت کمیٹی کے پاس حادثے سے متعلق زیادہ معلومات موجود ہیں۔
دوسری جانب سینیٹر روبینہ خالد نے پمز اسپتال کی نگرانی اور ریگولیٹری نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اسپتالوں کا باقاعدہ معائنہ ہی نہیں ہوگا تو ذمہ داری کا تعین کیسے کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز کے انتظامی نظام پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پمز اپنے رولز کے مطابق چلتا ہے اور رولز کے تحت پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہی اسپتال کا سربراہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے رولز میں نرمی کرنا پڑی۔
مصطفیٰ کمال نے موجودہ سرکاری نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’یہ نظام گلا سڑا نظام ہے، آپ کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کسی چپڑاسی کو بھی ہٹایا جائے تو اگلے روز اسٹے آرڈر لے آتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے تجویز دی کہ بھرتی اور معطلی کے اختیارات چیف ایگزیکٹو آفیسر کو دیے جائیں۔ ان کے مطابق پمز کے رولز میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور موجودہ نظام میں معاملات درست نہیں ہوسکتے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز میں ایک ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ سے بات تک نہیں کرتا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک جاگیر ہے، یہ کئی جاگیریں ہیں۔‘‘
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کو اسپتال چلانے کے موجودہ نظام سے باہر آنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے 1156 ارب روپے خرچ کیے، لیکن وہ 10 فیصد لوگوں کو بھی مطمئن نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک دن کا نہیں بلکہ کئی سال سے یہی نظام چل رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز سانحے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ حکام سے تفصیلات طلب کرلیں، جبکہ چیئرمین سی ڈی اے کو بھی پمز اسپتال کے معاملے پر کمیٹی کے سامنے طلب کرلیا گیا۔
کمیٹی ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر سیفٹی انتظامات، نرسری میں موجود عملہ، انکیوبیٹر پروٹوکول اور پہلے ہونے والی آتشزدگی سمیت تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے اصل حقائق سامنے آسکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔

