واشنگٹن / کاراکاس: امریکا اور وینزویلا کے درمیان حالیہ تجارتی اور توانائی کے معاہدے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور غیر معمولی انکشاف سامنے آیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے وینزویلا کے تیل کے کاروبار میں براہ راست ایکویٹی اسٹیک (حصص) حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس نے امریکی اور عالمی توانائی کے بازار میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق، واشنگٹن کا ارادہ ہے کہ وہ وینزویلا کے معروف کاروباری شخصیت اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے قریبی سمجھے جانے والے الجینڈرو کی نجی کمپنی "نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز” (NABEP) میں 35 فیصد کا غیر فعال (passive) حصص حاصل کرے۔
پینٹاگون کا "آفس آف اسٹریٹجک کیپٹل” پینی وارنٹس کے ذریعے اس ڈھانچے کو تشکیل دے گا، جس سے امریکی حکومت کو بھاری سرمائے کی سرمایہ کاری کے بغیر کمپنی میں ملکیت مل جائے گی اور محکمہ دفاع اس کا حتمی نگہبان ہوگا۔
اس متنازع معاہدے کے تحت مذکورہ نجی کمپنی کو 17 ایسے تیل کے فیلڈز کے صدی بھر (century-long) کے حقوق مل جائیں گے جن میں 65 ارب بیرل تیل موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیل کے بعد یہ کمپنی سعودی آرامکو کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی کارپوریٹ ریزرو ہولڈر بن جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وینزویلا کے 1999 کے آئین کے مطابق ملک کا تیل براہ راست جمہوریہ کی ملکیت ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ اس نجی ڈھانچے کو دانستہ طور پر منتخب کیا گیا تاکہ مستقبل کی کسی بھی وینزویلا حکومت کے لیے اس معاہدے کو منسوخ کرنا انتہائی مشکل بنا دیا جائے۔
چونکہ ایکسن موبل (Exxon) اور کونوکو فلپس جیسی بڑی امریکی تیل کمپنیاں سیکورٹی اور قانونی خطرات کے پیش نظر اس سے دور رہیں، اس لیے امریکی حکومت نے خود اس میدان میں قدم رکھا ہے۔
جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اس ڈیل کو 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور نوکریوں کا ضامن قرار دے رہے ہیں، وہیں امریکی انرجی ماہر ایڈ ہِرس (Ed Hirs) نے امریکی آئل مارکیٹ کا سب سے بڑا سوال اٹھا دیا ہے: "امریکہ آخر اپنے ہی ملکی پروڈیوسرز کے خلاف ایک اتنے بڑے حریف کو کیوں سبسڈی دے رہا ہے اور کھڑا کر رہا ہے؟”
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی سطح پر نومبر کے انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم زمین میں موجود ذخائر کو پمپ تک آنے میں برسوں کی ڈرلنگ کا وقت لگتا ہے، جس سے اس پالیسی کے طویل مدتی اثرات پر گہرے سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
امریکا نہیں ، وینزویلا کے تیل پر براہ راست پینٹا گون کا قبضہ ہوگا، وال اسٹریٹ جرنل

