کیئو:روس کے ایک ڈرون حملے میں یوکرین کی فوج کے لیے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو کو نشانہ بنائے جانے کے بعد 37 افراد ہلاک اور تقریباً 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈپو دارالحکومت کیئو کے مضافات میں ایک رہائشی علاقے کے قریب واقع تھا۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق جمعے کی رات ہونے والے حملے کے نتیجے میں گولے، بارودی سرنگیں اور ڈرون پھٹ گئے، جس سے شدید دھماکہ ہوا اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارتوں میں بزرگوں اور معذور افراد کے لیے قائم ایک نگہداشت مرکز بھی شامل ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کی یہ جگہ ’یقینی طور پر یہاں نہیں ہونی چاہیے تھی‘ اور لوگوں کے عین قریب دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے میں ’سنگین غفلت‘ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
کیئو کے قریب گزشتہ چند ماہ کے دوران کسی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا حملہ ہے، جس پر ایک بار پھر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علاقائی سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق جمعے کی رات ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے 42 افراد میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ سنیچر کو بوچا ضلع میں واقع جائے وقوعہ پر امدادی کارروائی جاری رہی۔
روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس کی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کے مغرب میں واقع گاؤں میلا میں ’اسلحہ ڈپو‘ کو نشانہ بنایا، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ فضائی طیاروں کے پرزے اور لانچ بوسٹرز‘ رکھے گئے تھے۔
دھماکے کے نتیجے میں گاؤں کے تقریباً 130 گھروں کو نقصان پہنچا۔
مقامی رہائشی 45 سالہ لیوبوف پاولینکو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گھر اسلحہ گودام سے تقریباً 200 میٹر دور ہے اور وہ نقصان کا جائزہ لینے وہاں پہنچی تھیں۔ ان کے مطابق گھر کی پوری بیرونی حدود اور کھڑکیوں کے اطراف دراڑیں پڑ گئی ہیں اور عمارت کی ساختی مضبوطی متاثر ہوئی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’گاؤں میں دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کا فیصلہ ’بالکل ناقابلِ قبول‘ تھا۔ ان کے مطابق ’سرکاری غفلت‘ کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

