پشاور انورزیب خان بے نقاب نیوز
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ورلڈ بینک اور جی ایف ایف مشن کا اہم اجلاس۔صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ورلڈ بینک اور گلوبل فنانسنگ فسیلٹی (GFF) مشن کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری مختلف صحت کے منصوبوں اور مستقبل میں صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ورلڈ بینک اور جی ایف ایف مشن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں جاری مختلف منصوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا ہیلتھ سسٹم اسٹرینتھننگ پروجیکٹ (KP-HCIP) اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام (NHSP) پر پیش رفت کے حوالے سے صوبائی وزیر صحت کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ منصوبوں پر عملدرآمد کی صورتحال، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا فریم ورک فار انٹیگریٹڈ اینڈ ٹرانسفارمیٹو پرائمری ہیلتھ کیئر (KP-FIT) کے تحت آئندہ پانچ سال کے لیے بنیادی صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانے اور کمیونٹی ایمبیڈڈ ہیلتھ کیئر پروگرام کے قیام کے حوالے سے مستقبل میں تعاون پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ورلڈ بینک اور جی ایف ایف مشن نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کو وفاقی پلاننگ کمیشن میں KP-FIT کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں بنیادی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے، کمیونٹی کی سطح پر صحت کی خدمات تک رسائی بہتر کرنے، نظام صحت میں گورننس کو مضبوط بنانے اور ایک مربوط و مؤثر پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کے قیام پر زور دیا گیا۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ورلڈ بینک اور جی ایف ایف کی جانب سے خیبر پختونخوا کے شعبہ صحت میں جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے لیے بنیادی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے مجوزہ KP-FIT پروگرام کی بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت، ورلڈ بینک اور جی ایف ایف کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ صوبے میں بنیادی صحت کے نظام میں پائیدار اصلاحات لاتے ہوئے عوام کو بہتر اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

