اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز (PIMS) میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہے۔
سنیچر کے روز وزیراعظم کو ارسال کی گئی اس رپورٹ میں کمیٹی نے ہسپتال کے اعلیٰ ترین افسران اور متعلقہ عملے کو سنگین غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
بدھ کے روز پمز کے چلڈرن ہسپتال کی گائنی نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 14 معصوم نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جسے 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پمز ہسپتال طویل عرصے سے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور کسی واضح انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ المیہ رونما ہوا۔ رپورٹ کی تیاری میں قائم مقام سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود کی تجاویز کو بھی شامل کیا گیا۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ غفلت کے ذمہ دار افسران کی جگہ فوری طور پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔
ہسپتال کے امور کو درست سمت میں چلانے کے لیے ایک باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دیا جائے۔
مستقل نگرانی کا نظام اور ایک پائیدار انتظامی فریم ورک تیار کیا جائے۔
پمز انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف آج شام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں اہم اور بڑے فیصلوں کا اعلان متوقع ہے۔ دوسری جانب، سنیچر کے روز وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ پمز ہسپتال کا دورہ کیا، جبکہ واقعے کے بعد وزارتِ صحت نے پمز سمیت ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی طور پر جامع ’فائر سیفٹی آڈٹ‘ شروع کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،

