اسلام آباد :چکوال میں دس اور گیارہ جون کی درمیانی شب ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کی گاڑی پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب (سی سی ڈی) کے ایک اہلکار کو قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔
اس واقعے میں نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی لڑکی ہانیہ احمد ہلاک ہوئی تھیں، جبکہ اُن کے والد عدیل احمد اور دس سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اور آئی جی پنجاب پولیس عبدالکریم نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ چکوال واقعہ کی انکوائری ایک ہفتے کے اندر مکمل ہو جائے گی۔ تاہم یہ انکوائری رپورٹ چالان کی شکل میں 28 جولائی کو پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروائی گئی۔
یاد رہے کہ نو سالہ ہانیہ احمد اور اُن کا خاندان چکوال میں اپنی کرائے کی گاڑی میں موجود تھا جب پولیس کے بقول مسلح ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انھیں لوٹنے کی کوشش کی۔ یہ وقوعہ سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے ساتھ ہی پیش آیا تھا۔
سی سی ڈی کے مطابق اس دوران ایک اہلکار نے ڈاکوؤں کے بجائے اس فیملی کی کار پر فائرنگ کر دی۔پولیس کے مطابق اہلکار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ملزمان اس گاڑی میں فرار ہو رہے ہیں، ’غلطی سے‘ فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہلاک اور اس کے والد اور بڑے بھائی زخمی ہو گئے۔
200 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ مجسٹریٹ ریحانہ کوثر کی عدالت میں جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم یعنی سی سی ڈی اہلکار نے اپنے انچارج کی اجازت کے بغیر اور اپنی ڈیوٹی سے ہٹ کر معصوم شہریوں پر جان سے مار دینے کی نیت سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے ہانیہ احمد ہلاک جبکہ اُن کے والد اور بھائی شدید زخمی ہوئے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے اپنا یہ مؤقف دہرایا ہے کہ وہ دس اور گیارہ جون کی درمیانی رات سی سی ڈی تھانے کے احاطے میں مرکزی گیٹ کے پاس کھڑے تھے، جب شور کی آواز سُن کر وہ تھانے سے باہر نکلے۔
بی بی سی کے مطابق ملزم نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ باہر گلی میں سفید رنگ کی کار کھڑی تھی اور دو مسلح ملزمان ڈکیتی کی واردات میں مصروف تھے۔ ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ انھیں دیکھتے ہی ایک شخص نے اُن پر فائر کیا، جس کے جواب میں کانسٹیبل نے بھی ڈکیتی کرنے والوں پر فائرنگ کی۔
ملزم کانسٹیبل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے فائرنگ سے بچنے کے لیے دیوار کی اوٹ لی اور اِسی اثنا میں گاڑی تیزی سے اسلامیہ چوک کی جانب بھگائی جس پر ملزم بھی موٹر سائیکل پر لفٹ لے کر گاڑی کے پیچھے گیا۔
تاہم اسی تفتیشی رپورٹ میں تھانے میں اُس وقت موجود ڈیوٹی افسر انسپیکٹر جہانزیب خان نے ملزم کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملزم کانسٹیبل نے اُن کی یا کسی دوسرے سینیئر افسر کی اجازت کے بغیر سرکاری رائفل سے فائرنگ کی اور اجازت کے بغیر ایک پرائیویٹ موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب کیا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق انسپیکٹر جہانزیب خان کے اس بیان کی تصدیق اُس وقت تھانے میں موجود تین اور اہلکاروں نے بھی کی ہے۔
اس انکوائری رپورٹ میں ملزم کانسٹیبل کے موقف کو، کہ انھوں نے ڈاکوؤں پر حقِ دفاع کے تحت فائرنگ کی، غلط اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے پستول کی گولیوں کے 14 جبکہ کلاشنکوف کی گولیوں کے 13 خول ملے۔
اس انکوائری رپورٹ میں 34 گواہان کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے جس میں اس واقعے کے عینی شاہد احمد نواز بھی شامل ہیں جو محلہ سرکلر روڈ چکوال کے رہائشی ہیں۔ یاد رہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ بھی سرکلر روڈ پر ہی پیش آیا تھا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق احمد نواز نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ وہ کسی شخص کا جنازہ پڑھ کر واپس آ رہے تھے اور جب سی سی ڈی تھانہ کے پاس پہنچے تو کلاشنکوف سے مسلح ملزم کانسٹیبل نے دیکھتے ہی دیکھتے سامنے جاتی ہوئی کار پر یکے بعد دیگرے فائر کیے۔
گواہ احمد نواز کے بقول انھیں بعد میں پتہ چلا کہ کانسٹیبل نے جس گاڑی پر فائرنگ کی اس میں سوار فیملی اُن ہی کی رشتہ دار ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ابھی تک پنجاب فرانزک اینڈ سائنس ایجنسی سے فائر کی گئی گولیوں، ہانیہ احمد، عدیل احمد اور ان کے بیٹے عفان احمد کو لگنے والی گولیوں اور خون کے نمونوں کے متعلق حتمی رائے موصول نہیں ہوئی ہے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق اگست میں عدالتی تعطیلات کی وجہ سے ستمبر میں اس مقدمے کا باضابطہ ٹرائل شروع ہو گا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق اس واقعہ میں ملوث دونوں مبینہ ڈاکوؤں کی شناخت محمد عباس اور محمد فیاض کے ناموں سے ہوئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ملزمان ریکارڈ یافتہ تھے۔ پولیس کے مطابق محمد عباس 15 جبکہ محمد فیاض 12 مختلف جرائم کے مقدمات میں ملوث تھے۔ یاد رہے کہ سی سی ڈی کے مطابق یہ دونوں مبینہ ڈاکو 11 جون کی ہی رات چکوال میں ہی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ’اپنے ساتھیوں‘ کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس کے مطابق دونوں مبینہ ڈاکوؤں کے سر میں گولیاں لگی تھیں۔
سی سی ڈی کے ایک افسر کے مطابق محمد عباس سنہ 2021 میں چکوال میں ہونے والی دو ڈکیتیوں کے سلسلے میں گرفتار بھی ہوئے تھے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق دس اور گیارہ جون کی درمیانی رات کو دونوں مبینہ ڈاکوؤں نے آسٹریلوی فیملی کو لوٹنے سے پہلے دو دکانوں پر بھی ڈکیتی کی تھی۔ ڈاکوؤں کی ہلاکت کے بعد دونوں دکانوں کے مالکان اور ایک خاتون، جن سے سونے کی بالیاں لوٹی گئی تھیں، نے تصاویر دیکھ کر انھیں پہچان لیا۔
چکوال، ہانیہ قتل کیس: گولی کس نے چلائی، ذمہ دار کون! انکوائری رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات

