کراچی :کراچی کی مقامی عدالت نے قتل بالسبب کے مقدمے میں کوکین کوئین انمول عرف پنکی پر فرد جرم عائد کردی ہے۔
منگل کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی کراچی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف قتل بالسبب کے مقدمے کی سماعت ہوئی تاہم کیس کی سماعت کے دوران ملزمہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوران سماعت ملزمہ انمول عرف پنکی نے صحت جرم سے انکار کردیا، اس کا کہنا تھا کہ مجھ پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔
عدالت نے مقدمے کے گواہان کو نوٹس جاری کر دیے جب کہ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو 3 ستمبر تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ ملزمہ کے خلاف بغدادی تھانے میں قتل خطا کا مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بعد میں ترمیم کی گئی۔ 13 اگست کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے منشیات کے 3 مقدمات میں ملزمہ انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تینوں مقدمات میں بری کیا تھا جب کہ کیسز کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن ملزمہ پنکی کے خلاف شوہد پیش کرنے میں ناکام رہی تھی۔انمول عرف پنکی کو 12 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گارڈن سے پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے تقریباً 1.5 کلو کوکین، 9 ایم ایم پستول اور کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد ہوا تھا۔
کراچی پولیس کے مطابق گرفتاری کے بعد انمول پنکی کے خلاف پہلے سے درج متعدد مقدمات میں بھی اسے گرفتار ظاہر کیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 16 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ منشیات فروشی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں مقدمات درج ہیں جبکہ منشیات کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آج نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔
مختلف اوقات میں سامنے آنے والی ان تعدادوں میں فرق کی وجہ مقدمات کے اندراج، گرفتاری اور چالان کی مختلف مراحل کی تفصیلات ہو سکتی ہیں۔
پولیس اور تفتیشی حکام کی جانب سے انمول عرف پنکی پر منشیات کی خرید و فروخت اور مبینہ طور پر منظم منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس کے خلاف درج مقدمات میں منشیات ایکٹ، غیر قانونی اسلحہ، اقدام قتل اور قتل سمیت مختلف دفعات شامل رہی ہیں۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انمول پنکی کا مبینہ نیٹ ورک کراچی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں متعدد سہولت کار شامل تھے۔
حکام کے مطابق تفتیش کے دوران اس کے رابطوں، بینک لین دین اور مبینہ منشیات سپلائی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ ان دعوؤں کا حتمی تعین عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں سے ہوگا۔
انمول پنکی کے خلاف زیرسماعت مقدمات میں گارڈن تھانے کا منشیات کیس خاص طور پر اہم ہے۔ جون 2026 میں اس مقدمے میں مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت کی درخواستوں پر بھی کارروائی ہوئی جب کہ پولیس نے بعض ملزمان کو پنکی کے لیے رقوم کی وصولی اور منشیات نیٹ ورک میں معاونت کا الزام عائد کیا۔
اس کے علاوہ بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ 5 اگست 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے پولیس کا حتمی چالان منظور کرلیا۔
پولیس نے چالان میں قتل کی دفعہ تبدیل کرکے اسے قتل بالسبب قرار دیا۔ پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی اور اس کے پاس سے ایسی ڈبیا برآمد ہوئی جس پر انمول پنکی کا نام درج تھا، تاہم کراچی یونیورسٹی کی کیمیکل رپورٹ میں موت نشے کے باعث قرار دی گئی، جس کے بعد قتل کی دفعہ ختم کردی گئی۔
انمول پنکی کے خلاف 6 مقدمات میں چالان اور گواہان کے بیانات کی نقول جیل میں فراہم کیے جانے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 25 جولائی 2026 کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی گرفتاری کے بعد بھی متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائی مختلف مراحل پر جاری ہے۔
یوں ایک مقدمے میں بریت کے باوجود انمول عرف پنکی کو دیگر زیرسماعت مقدمات کا سامنا ہے، جن میں منشیات سے متعلق مقدمات کے علاوہ قتل کا مقدمہ بھی شامل رہا ہے جب کہ تازہ ترین عدالتی پیش رفت کے مطابق قتل کے مقدمے میں الزام کی نوعیت تبدیل کرکے قتل بالسبب کردی گئی ہے۔

